کفارہ (منتخب افسانہ)
گاڑی نمبر ۱ پلیٹ فارم پر رکی اور تیسرے درجے کے ایک بھرے ہوئے ڈبے سے ایک گھبرائی ہوئی آواز نے پکارا، ’’کوئی قلی۔ کوئی قلی!‘‘ تب لوگوں کو تو چڑھنے اترنے کی پڑی تھی۔ اترنے والوں کی نسبت چڑھنے والے اتاولے تھے اور چڑھنے والوں کی نسبت بےصبر۔ پھر قلی کس طرح اس…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…