پاکستان اور بلیک پراپیگنڈا
پاکستان سیاسی، سماجی اور قومی سطح پر بلیک پراپیگنڈا کا شکار ہے۔ اس سے نکلنے کے لیے ہمیں اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اور تحقیق کی عادت بیدار کرنا ہوں گی۔ بنا تحقیق بات آگے بڑھا دینا بھی بلیک پراپیگنڈا کی ہی ایک شکل ہے۔ انسانی ارتقا نے منظم معاشروں کو…
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے نگرانوں کو!
اگرچہ موجودہ نگراں حکومت کو گذشتہ پارلیمنٹ ناگزیر اقتصادی فیصلے کرنے کے اختیارات سے بھی مسلح کر گئی ہے، مگر اختیار کا ہونا اور اختیار استعمال کرنا دو الگ الگ باتیں ہیں بچپن میں جب میں ایک روپے سے پانچ سو روپے تک کے کرنسی نوٹ دیکھتا تھا تو یہ بات سمجھ میں…
آئی ایم ایف اور بھرا ہوا سگریٹ
گزشتہ ہفتے جو سالانہ وفاقی بجٹ پیش کیا گیا، اس میں یکم جولائی سے کم سے کم ماہانہ تنخواہ پچیس ہزار روپے سے بڑھا کے بتیس ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی اکثریت کے لیے پنشن کی کم ازکم حد ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کے دس ہزار روپے…
پاکستان پر اشرافیہ کا تسلط اور آئی ایم ایف سربراہ کی پاکستانی عوام کے ساتھ ’ہمدردی‘!
اگرچہ پاکستانی معیشت پر اشرافیہ کے تسلط کی بحث نئی نہیں ہے، مگر اسے ایک نئی جہت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کے اس بیان سے ملی کہ پاکستان اپنے ہاں غریب شہریوں کا تحفظ کرے اور امیروں پر نئے ٹیکس لگائے اقتصادی ماہرین اور سماجی تجزیہ کاروں میں یہ خیال…
کیا واقعی آئی ایم ایف ہماری معیشت کے لیے نجات دہندہ ہے؟
وقت کا کیسا حسین ستم ہے۔ وہ ادارہ جسے دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں عوام مخالف، اشرافیہ کا دوست اور بڑھتی ہوئی غربت، افلاس اور بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، اب اسی ادارے کو پاکستان کے واحد نجات دہندہ کر طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ہمارے حکمران ایک سال سے…
پاکستان کے لیے امداد کے وعدے: کیا امداد واقعی شفاف طریقے سے استعمال ہوگی؟
جنیوا میں اقوام متحدہ اور پاکستان کے زیرِ اہتمام امدادی کانفرنس میں پاکستان کے لیے دس بلین ڈالرز سے زیادہ کے قرضے اور امداد کے وعدے کیے گئے ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آخر اس امداد کو استعمال کس طرح کیا جائے گا اور اہم سوال اس کے شفافیت سے…