جنٹل مین بن کے دکھاؤ
پانچویں کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد محترم نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔ دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ I beg…
تاریخ نویسی اور برطانوی سامراج
ہر قوم اپنے ماضی کی تاریخ لکھ کر پرانے ادوار اور واقعات کو محفوظ کرتی ہے، لیکن تاریخ نویسی پر حکمراں طبقے کا قبضہ ہوتا ہے، جو اس کے بیانیے کو اپنی شہرت اور مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس تاریخ نویسی میں عام لوگوں کو شامل نہیں کیا جاتا ھے۔ جب یورپی…
برطانوی ایمپیریل ازم ختم مگر کلچراب بھی زندہ
برطانوی ایمپیریل ازم اپنا تاریخی کردار ختم کر کے جا چکا ہے۔ اب مورخین اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خاص طور پر کمبریج اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں کی جانب سے اس موضوع پر کئی جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں مورخین نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے ورثے…
یورپی سامراج کے اندھیرے
اٹھارہویں صدی میں سفید فام نسل پرستی کے نظریات اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے یورپی تہذیب نے ترقی کر لی تھی۔ یورپی ملکوں کی تجارتی کمپنیاں ایشیا اور یورپ میں اپنی پیداوار کو منڈیوں میں بھیج کر سرمایہ جمع کر رہے تھے۔ آپس میں…
یورپی سامراج نے ’تاریک براعظم‘ پر کیسے قبضہ کیا؟
افریقہ کے بارے میں یورپ کے مورخوں اور دانشوروں کا یہ خیال تھا کہ ’یہ ایک تاریک براعظم‘ ہے، جس کی نہ کوئی تاریخ ہے اور نہ تہذیب۔۔‘ اس لیے، جب انہوں نے افریقہ کے براعظم کی طرف توجہ دی تو ان کے تین مقاصد تھے: – مقامی زمینوں پر قبضہ کر کے مقامی باشندوں…
دنیا پر امریکی اجارہ داری
انسانی نفسیات بھی بڑی عجیب ہے۔ انسان ہزاروں سال سے کھلی آنکھوں سے وہ خواب دیکھ رہا ہے، جس کی تعبیر ابھی تک نہیں نکل پائی کہ اسے ظالموں کے ظلم و استحصال سے چھٹکارا ملے۔ اس تاریک رات کا خاتمہ ہو۔ وہ صبح کب آئے گی۔ شاید کبھی نہیں۔ سوویت یونین میں سوشلسٹ…