بُن بَست (منتخب افسانہ)
اس بار وطن آنے کے بعد میں نے شہر میں دن دن بھر گھومنا شروع کیا، اس لیے کہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ میری اماں سلائی کڑھائی کا کام کرکے جو تھوڑی بہت رقم پیدا کرتی تھیں، وہ ہم ماں بیٹوں کا پیٹ بھرنے کو کافی تھی، بلکہ میرے لیے تو ہمیشہ…
شکاری (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرطوب، حبس آلود دوپہر۔ آسمان پر بادل کی کترن تک نہیں۔۔۔ دھوپ میں پکی ہوئی گھاس تھکی ماندی، مایوس دکھائی دے رہی ہے، جیسے اگر بارش ہو بھی جائے تب بھی یہ کبھی سرسبز نہیں ہو سکے گی۔ جنگل خاموش، ساکت کھڑا ہے، جیسے درختوں کے اوپر سے کسی کی راہ تک رہا ہے، یا…
چغد (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکوں اور لڑکیوں کے معاشقوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ پرکاش جو بہت دیر سے خاموش بیٹھا اندر ہی اندر بہت شدت سے سوچ رہا تھا، ایک دم پھٹ پڑا، ’’سب بکواس ہے، سو میں سے ننانوے معاشقے نہایت ہی بھونڈے اور لچر اور بے ہودہ طریقوں سے عمل میں آتے ہیں۔ ایک باقی رہ…
میوزیم (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
چھٹی کی گھنٹی بجی تو بچے شور مچاتے باہر نکلے۔ اس کا بیٹا اس کے پاس آیا۔ ’’شکر ہے آج آپ مجھے جلدی لینے آ گئے، مما تو بہت دیر کر دیتی ہیں۔‘‘ ’’تمہاری مما دیر تک کام کرتی ہیں۔‘‘ ’’آپ ہی مجھے ہر روز لینے کیوں نہیں آتے؟‘‘ ’’آج میری چھٹی ہے۔۔ مگر میں…
باپ (نارویجئن ادب سے منتخب افسانہ)
وہ موسمِ سرما کا ایک دن تھا۔ ایک آدمی شہر کے شمالی علاقے کی ایک سڑک پر جمی برف اور پگھلی ہوئی برف کے پانی میں قدم جماتا، گھروں کے نمبروں کو بغور پڑھتا آگے بڑھتا چلاجا رہا تھا۔ اس کی عمر تیس برس سے کچھ اوپر ہی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا قد…
بیکسیِ پرواز (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
روایت ہے کہ وہ چھ تھے اور انہوں نے کئی دنوں سے سوچ بچار کے بعد بَلا کا مقابلہ کیا، جو شہر کی فصیل پر بیٹھی ہوئی تھی اور کسی کو اندر نہ آنے دیتی اور نہ کسی کو شہر سے باہر جانے دیتی۔ وہ آنے والے اور جانے والے سے ایسے سوال پوچھتی، جن…
سورج مکھی (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آسمان پر صبح کے آثار نمودار ہو چلے تھے۔ یوراگوئے کے اس سرحدی گاؤں میں مقیم فریڈریکو کچی سڑک کے پار سورج مکھی کے پھولوں کے کھیت کو گھور رہا تھا۔ اس کے قیمتی جوتوں پر مٹی تھی یا ریت، اسے اندازہ نہ تھا۔ ہاں البتہ اس کی بیوی لوئیسا فوراََ بتا دیتی۔ لوئیسا…
اسکول ٹیچر کا مہمان (چلین ادب سے منتخب افسانہ)
اسکول ٹیچر انیس ’دی پرل آف دی اورینٹ‘ میں داخل ہوئی، جو اس وقت بلکل ویران تھا۔ سیدھی کاؤنٹر پر پہنچی، جہاں ریاض حلابی شوخ پھولوں والے کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ اسکول ٹیچر نے اسے بتایا کہ اس نے اپنے مہمان سرائے میں ایک مہمان کا سر کاٹ دیا ہے۔ تاجر نے…