سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط22)
ہم اسکردو پہنچے ہیں۔ اس کی اہمیت کے ٹو چوٹی کو سر کرنے کی خواہش لئے دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں یا دلکش جنت نظیر شنگریلا جھیل کی بدولت ہے۔ اسے تبت خورد بھی کہتے ہیں۔ پہاڑوں کے بیچ پیالہ نما جگہ، ماضی کی یہ اہم بستی بلتستان کا صدر مقام اور آج…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 17)
میں نے جیپ سے اتر کر کمر سیدھی کی ہے جبکہ سندھو دور نیچے اپنے شور سے اپنے بہنے کا احساس دلا رہا ہے۔ جیپ پھر سڑک پر رواں ہے۔پہلے ہی موڑ نے بتا دیا کہ آنے والا راستہ کتنا دشوار ہوگا۔ فور بائی فور سے یہ موڑ مڑا تو اللہ یاد آ گیا۔ تنگ…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 10)
دم چک سے میں نے جیپ کرائے پر لی ہے۔ پنتیس (35) سالہ صحت مند، باریش، گوری رنگت، دم چک کا رہائشی نواز میرا ڈرائیور اور ہم سفر ہے۔ (کیا خوش قسمتی ہے کہ بہاول پور میں میرے ایک سرکاری ڈرائیور کا نام بھی نواز تھا۔ وہ کمال درویش منش اور عمدہ ڈرائیور تھا۔) میرا…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 9)
”میں تقریباً دو سو (200) میل یا تین سو بیس (320) کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے تبت کی شمال مشرقی سرحد عبور کر کے چھیالیس (46) سو میٹر کی بلندی سے مقبوضہ کشمیر کی وادیِ لداخ میں داخل ہوتا ہوں۔ لہہ سے تیس (30) کلومیٹر دور میری پہلی ڈسٹری بیوٹری دریائے ’زنگسار‘…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 7)
”وہ شخص جو برہما پتر اور میرے منبع دریافت کرنے کا پختہ عزم لے کر یہاں آیا سویڈش سیاح ’سیون ہیڈن‘ تھا جو 1907 ء میں مانسرور پہنچا۔ وہ لکھتا ہے؛ ’جھیل مانسرور کی سطح گنبد کی طرح ہے جس کی سنہری ریت پر ایک بڑا درخت اگا ہے جس پرسادھوؤں کے بے شمار سنہرے…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 5)
دو دہائیوں بعد مجھے اس کی زندگی پر لکھنے کا شوق پیدا ہوا تو میں پھر اس کے پاس چلا آیا ہوں۔ کئی سالوں کی غیرحاضری کا شکوہ کر کے بولا ”کیسے آئے ہو اتنی مدت کے بعد کہاں تھے تم؟“ میں نے جواب دیا؛ ”دوست! تمھاری کہانی لکھنے کو دل چاہا تو تمھارے پاس…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 4)
میں (سندھو) کون ہوں؟ ”میں یہاں سنگی کھابب پر کھڑا دریائے سندھ کو زمین کی آغوش سے جنم لیتے دیکھ رہا ہوں۔“ سیون ہیڈن دنیا میں بے شمار دریا ہیں نامور، منہ زور اور تاریخی۔۔ دریائے نیل کا ذکر اگر قرآن پاک میں ہے تو بہت سے دریاﺅں کا تذکرہ ہندوﺅں کی مقدس کتب…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 2)
میرے ہمسفر وہی پرانے اور آپ کے شناسا ہیں ماسوائے لالہ اعجاز کے کہ وہ جولائی 2016ء میں اس دار فانی سے اپنے ابدی گھر جا چکے ہیں۔ چوہدری ریاض احمد، ملک مشتاق ساتھ ہیں، جبکہ لالہ اعجاز کی یادیں۔ کچھ نئے ہمسفر بھی ہیں جیسے میرے پھوپھی زاد بھائی قیس مظہر حسین۔…