دریائے سندھ کی تہذیب کب، کیسے اور کس نے دریافت کی؟
وِل ڈیورا، جو دنیا کے جانے مانے تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں، اپنی کتاب دی اِسٹوری آف سویلائزیشن میں لکھتے ہیں ’’جب خوفو نے پہلا احرام تعمیر کروایا تو ’موہن جو دڑو‘ اپنے عروج پر تھا۔‘‘ مجھے وِل ڈیورا کی دریائےِ سندھ کی ترائی پر آباد، اِنڈس ویلی سویلائزیشن…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط30)
تھور وادی سے چلاس تک گزرتے سندھو نے اس قدر گہری کھائیاں کھود دی ہیں کہ یہاں صرف چند گھنٹے ہی دھوپ پہنچتی ہے۔ یہ عظیم بلندیوں اور غاروں جیسی پستی والی سرزمین بدصورت ہے اور یہاں سے گزرتے دل پر عجیب سا اثر ہوتا ہے۔ اس وادی کی وسعت میں سندھو خاموشی مگر تیزی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 17)
میں نے جیپ سے اتر کر کمر سیدھی کی ہے جبکہ سندھو دور نیچے اپنے شور سے اپنے بہنے کا احساس دلا رہا ہے۔ جیپ پھر سڑک پر رواں ہے۔پہلے ہی موڑ نے بتا دیا کہ آنے والا راستہ کتنا دشوار ہوگا۔ فور بائی فور سے یہ موڑ مڑا تو اللہ یاد آ گیا۔ تنگ…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 12)
”تبت کے ساتھ میری قربت، لیہہ کے قدیم تجارتی راستے اور مذہبی روابط ہیں۔ لیہہ ’تبت اصغر‘ (چھوٹا تبت) کہلاتا ہے۔ تبت، چین، ہندوستان اور بلتستان کے تاجر ادھر کا رخ کرتے تھے۔ قدیم دور میں یہاں ایک سے زیادہ شوہر (چند شوائی) کا عام رواج تھا لیکن اب یہ رسم قانون…