سندھ کا مٹیالا پانی اور اس پر جمی میلی آنکھیں۔۔
اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ دریائے سندھ، جو پہاڑوں کے دل سے نکلتا ہے اور میدانوں کے سینے پر بہتا ہوا سمندر کی آغوش میں سما جاتا ہے، زندگی کا ایک حسین استعارہ ہے۔ یہ دریا نہ صرف زمین کو سیراب کرتا ہے…
ہماری قومی و ریاستی بے حسی کے باعث انڈس ڈولفن کی معدوم ہوتی ہوئی نسل
دریائے سندھ اپنے سینے پر ہونے والی دہشت گردیوں اور قبضہ گیریوں کی وجہ سے کئی دہائیوں سے سکرات کے عالم سے گزر رہا ہے۔ اس کا پیٹ سال کے کئی مہینے بھوک و پیاس کی وجہ سے سوکھا رہتا ہے اور تب اس کی زرخیز چھاتی پر پانی کی بپھری ہوئی موجوں کی جگہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط63)
جیرو سائیں پچاس پچپن برس کا باریش ہنس مکھ سندھی ہے، جو اپنے بچپن سے ہی سیاحوں اور زائرین کو سادھ بیلو لا لے جا رہا ہے۔ پہلے کشتی پر باپ کا مدد گار تھا، اب خود دیسی موٹر بوٹ چلاتا ہے اور اس کے بیٹے اب اس کے مدد گار ہیں۔ اس کے منہ…
شیر دریا، پانی کے دیوتا اور زندہ پیر کی کتھا (دوسرا اور آخری حصہ)
رچرڈ ایف برٹن تو بکھر کا قلعہ دیکھنے کے لیے چلے گئے ہیں۔ ہینری کزنس اپنی تحقیق میں مشغول ہیں۔ اس سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ ہم ابن بطوطہ سے اس جزیرے کے متعلق کچھ باتیں سن لیں۔ وہ محمد بن تغلق کے زمانے (1333ء) یعنی آج سے تقریباً 700 برس پہلے یہاں آئے…