وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کیسے تباہ ہوئی؟ نئی سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے
ہزاروں برس پہلے، جب دریائے سندھ کے کنارے اینٹوں سے بنے منظم شہر آباد تھے، نکاسیِ آب کے شاندار نظام کام کر رہے تھے اور شہری زندگی اپنے عروج پر تھی، تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ عظیم تہذیب کسی جنگ، حملے یا اچانک قدرتی آفت کے بغیر، خاموشی…
سندھ کا مٹیالا پانی اور اس پر جمی میلی آنکھیں۔۔
اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ دریائے سندھ، جو پہاڑوں کے دل سے نکلتا ہے اور میدانوں کے سینے پر بہتا ہوا سمندر کی آغوش میں سما جاتا ہے، زندگی کا ایک حسین استعارہ ہے۔ یہ دریا نہ صرف زمین کو سیراب کرتا ہے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط74)
سندھو بتاتا ہے ”آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی سندھو کے پانی میں کمی کا گلہ ہے۔ پانی کا یہ قدرتی ذخیرہ کتنی تیزی سے کم ہو رہا ہے کوئی بھی درست اندازہ لگانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ اگر پاکستان میں سندھ اور پنجاب واسی تمھارے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط63)
جیرو سائیں پچاس پچپن برس کا باریش ہنس مکھ سندھی ہے، جو اپنے بچپن سے ہی سیاحوں اور زائرین کو سادھ بیلو لا لے جا رہا ہے۔ پہلے کشتی پر باپ کا مدد گار تھا، اب خود دیسی موٹر بوٹ چلاتا ہے اور اس کے بیٹے اب اس کے مدد گار ہیں۔ اس کے منہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط27)
عالم گڑھ کا بیلی سسپنشن برج ایک سو بتیس (132) میٹر لمبا ہے۔ اسے ایک مقامی ٹھیکے دار ”سید عالم“ نے تعمیر کیا اور انہی کا نام اس کے نام کی نسبت بن گیا ہے۔ میں پانچ سو (500) میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ دریائے گلگت پر اب جدید پل بنا…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 1)
شہزاد حمید پیشہ ور لکھاری نہ ہونے کے باوجود لاتعداد پیشہ ور لکھنے والوں سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی تحریروں میں اس کی شخصیت کا عکس بہت نمایاں ہے جو شرافت، نجابت، متانت، محنت اور صداقت کا نایاب کومبینیشن ہے اس کی یہ زیر نظر کتاب کسی شہکار سے کم نہیں کہ…
شیر دریا، پانی کے دیوتا اور زندہ پیر کی کتھا (دوسرا اور آخری حصہ)
رچرڈ ایف برٹن تو بکھر کا قلعہ دیکھنے کے لیے چلے گئے ہیں۔ ہینری کزنس اپنی تحقیق میں مشغول ہیں۔ اس سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ ہم ابن بطوطہ سے اس جزیرے کے متعلق کچھ باتیں سن لیں۔ وہ محمد بن تغلق کے زمانے (1333ء) یعنی آج سے تقریباً 700 برس پہلے یہاں آئے…