سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…