سندھ کا مٹیالا پانی اور اس پر جمی میلی آنکھیں۔۔
اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ دریائے سندھ، جو پہاڑوں کے دل سے نکلتا ہے اور میدانوں کے سینے پر بہتا ہوا سمندر کی آغوش میں سما جاتا ہے، زندگی کا ایک حسین استعارہ ہے۔ یہ دریا نہ صرف زمین کو سیراب کرتا ہے…
دریائے سندھ کی تہذیب کب، کیسے اور کس نے دریافت کی؟
وِل ڈیورا، جو دنیا کے جانے مانے تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں، اپنی کتاب دی اِسٹوری آف سویلائزیشن میں لکھتے ہیں ’’جب خوفو نے پہلا احرام تعمیر کروایا تو ’موہن جو دڑو‘ اپنے عروج پر تھا۔‘‘ مجھے وِل ڈیورا کی دریائےِ سندھ کی ترائی پر آباد، اِنڈس ویلی سویلائزیشن…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط75)
ایک اور یونانی مؤرخ ”ٹالمی“ لکھتا ہے؛ ”سندھو اپنی شاخوں میں جو جزیرہ بنا رہا ہے وہ پراسیان ہے اور یہی اس کا ڈیلٹا بھی ہے۔“ چینی سیاح ”سوانگ سانگ“ اپنے سفر نامے میں سندھ کے جن مقامات اور معاملات کا ذکر کرتا ہے، وہ بڑی حد تک قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ ان کا محل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط68)
1922ء میں ’انڈین آرکیالوجی سروے‘ کے ماہر سر جان مارشل نے موئن جو دڑو کی باقیات دریافت کیں۔مُردوں کا یہ ٹیلہ اور ماضی کا اجڑا شہر اب یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج میں شامل ہے۔ اس کی دریافت کو 100 برس مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک موجودہ سائیٹ کے ساڑھے پانچ (550)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط51)
ڈیرہ غازی خاں کے رہنے والے قاسم نقوی (رٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ بلدیات) یہاں ہمارے میزبان ہوں گے۔ تونسہ سے گدو تک کا سفر ہم کشتی میں ہی کریں گے۔ اس سفر کو طے کرنے میں ہمیں 3 دن لگیں گے۔ گدو تک کے سفر میں دوستوں کے علاوہ ڈولفن، غیر ملکی مہمان…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط24)
کچھ دنوں سے دریا کے ساتھ سفر کرتے کرتے میں اس کے شور کا عادی ہو گیا ہوں لیکن آج صبح میری آنکھ دریا کے شور سے نہیں بلکہ پرندوں کی چہچہاہٹ سے کھلی ہے۔باس ہمیشہ کی طرح پہلے ہی تیار ہو چکے ہیں۔ نین جینز کی پینٹ اور سبز جیکٹ میں کسی اور دنیا…