سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط23)
سندھو بولتے چلا جا رہا ہے؛ ”اولڈنگ سے یہاں تک دریائے شیوک، شگر، کئی ندی، نالے اور چشمے مجھ میں مل کر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ آگے بھی دیکھنا میں کن کن اور کیسے کیسے ندی نالوں کو نگلتا ہوں۔ میرا وجود کافی بھرپور ہو چکا ہے۔ اب میں اپنا غصہ نکالنے اور سیلاب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط22)
ہم اسکردو پہنچے ہیں۔ اس کی اہمیت کے ٹو چوٹی کو سر کرنے کی خواہش لئے دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں یا دلکش جنت نظیر شنگریلا جھیل کی بدولت ہے۔ اسے تبت خورد بھی کہتے ہیں۔ پہاڑوں کے بیچ پیالہ نما جگہ، ماضی کی یہ اہم بستی بلتستان کا صدر مقام اور آج…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 19)
ایک بار کرنل (آر) شہباز نے بتایا تھا ”میں 1978ء سے1980ء تک 2 این ایل آئی (2NLI) کا کمانڈر رہا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسکردو سے اولڈنگ تک کا راستہ تنگ، دشوار تھا اور اس مسافت طے کرنے میں سات (7) گھنٹے لگتے تھے۔ مرول ٹاپ سے آگے کا راستہ تو بہت ہی کٹھن…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 17)
میں نے جیپ سے اتر کر کمر سیدھی کی ہے جبکہ سندھو دور نیچے اپنے شور سے اپنے بہنے کا احساس دلا رہا ہے۔ جیپ پھر سڑک پر رواں ہے۔پہلے ہی موڑ نے بتا دیا کہ آنے والا راستہ کتنا دشوار ہوگا۔ فور بائی فور سے یہ موڑ مڑا تو اللہ یاد آ گیا۔ تنگ…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 16)
سندھو کہانی جاری رکھے ہے؛ ”لیہہ میری شمال مغربی گزرگاہ پر واقع ہے۔ شیوک دریا بھی میرے متوازی بہتا ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ طے کرکے مجھ میں گرتا ہے۔“ ملبیک سے روانہ ہو کر مجھے اولڈنگ پہنچنا تھا۔ اپنے دیس، پاکستان۔۔ یہاں سے ایک سو پچاس میل کا سفر طے کر کے۔۔…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 13)
”لداخ کبھی اس سلطنت کا اہم قصبہ تھا، جہاں بدھ مت پروان چڑھا۔ یہ اشوک اعظم کا دور اور 240 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ موریہ خاندان کا نامور چشم و چراغ اشوک اعظم اس سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ کا پوتا تھا۔ کالنگا (موجودہ آڑیسہ) کی لڑائی میں ہونے والی خون ریزی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 10)
دم چک سے میں نے جیپ کرائے پر لی ہے۔ پنتیس (35) سالہ صحت مند، باریش، گوری رنگت، دم چک کا رہائشی نواز میرا ڈرائیور اور ہم سفر ہے۔ (کیا خوش قسمتی ہے کہ بہاول پور میں میرے ایک سرکاری ڈرائیور کا نام بھی نواز تھا۔ وہ کمال درویش منش اور عمدہ ڈرائیور تھا۔) میرا…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 9)
”میں تقریباً دو سو (200) میل یا تین سو بیس (320) کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے تبت کی شمال مشرقی سرحد عبور کر کے چھیالیس (46) سو میٹر کی بلندی سے مقبوضہ کشمیر کی وادیِ لداخ میں داخل ہوتا ہوں۔ لہہ سے تیس (30) کلومیٹر دور میری پہلی ڈسٹری بیوٹری دریائے ’زنگسار‘…