سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط68)
1922ء میں ’انڈین آرکیالوجی سروے‘ کے ماہر سر جان مارشل نے موئن جو دڑو کی باقیات دریافت کیں۔مُردوں کا یہ ٹیلہ اور ماضی کا اجڑا شہر اب یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج میں شامل ہے۔ اس کی دریافت کو 100 برس مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک موجودہ سائیٹ کے ساڑھے پانچ (550)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط67)
محمد الیاس انصاری جو یہاں کھدائی کے کام سے 1988ء سے وابستہ ہیں (ان کے دادا اور والد اس شہر کی ابتدائی کھدائی کرنے والوں میں شامل تھے) کہتے ہیں؛ ”کھدائی کے دوران ہمیں ہار، چھوٹے کھلونے، مورتیاں، کنگن اور دوسری اشیاء ملی ہیں۔“ اس شہر کی ایک خاص بات یہ ہے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط51)
ڈیرہ غازی خاں کے رہنے والے قاسم نقوی (رٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ بلدیات) یہاں ہمارے میزبان ہوں گے۔ تونسہ سے گدو تک کا سفر ہم کشتی میں ہی کریں گے۔ اس سفر کو طے کرنے میں ہمیں 3 دن لگیں گے۔ گدو تک کے سفر میں دوستوں کے علاوہ ڈولفن، غیر ملکی مہمان…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط37)
”سکندر کی اگلی منزل پانچ دریاؤں کی سر زمین پنجاب تھی۔ سکندر اعظم ٹیکسلا سے دریائے جہلم ’ہائیڈوپس‘ (یونانی دریائے جہلم کو hydespes کہتے تھے) کے کنارے ’مونگ‘ (منڈی بہاؤالدین کا نواحی قصبہ) پہنچا، جہاں راجہ پورس اور یونانی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط30)
تھور وادی سے چلاس تک گزرتے سندھو نے اس قدر گہری کھائیاں کھود دی ہیں کہ یہاں صرف چند گھنٹے ہی دھوپ پہنچتی ہے۔ یہ عظیم بلندیوں اور غاروں جیسی پستی والی سرزمین بدصورت ہے اور یہاں سے گزرتے دل پر عجیب سا اثر ہوتا ہے۔ اس وادی کی وسعت میں سندھو خاموشی مگر تیزی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط28)
برزل ٹاپ زمانہ قدیم سے ہی سری نگر اور گلگت کے درمیان اہم تجارتی راستہ تھا۔ اس راستے پر سفر زیادہ تر گھوڑوں یا یاک پر ہی ہوتا تھا۔ بنجی شاہراہ ریشم پر قدیم زمانے سے ہی اہم قصبہ ہے۔پرانے زمانے میں یہ جگہ گلگت اور ڈوگرہ راج کے درمیان بارٹر تجارت کا اہم مرکز…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط27)
عالم گڑھ کا بیلی سسپنشن برج ایک سو بتیس (132) میٹر لمبا ہے۔ اسے ایک مقامی ٹھیکے دار ”سید عالم“ نے تعمیر کیا اور انہی کا نام اس کے نام کی نسبت بن گیا ہے۔ میں پانچ سو (500) میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ دریائے گلگت پر اب جدید پل بنا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط23)
سندھو بولتے چلا جا رہا ہے؛ ”اولڈنگ سے یہاں تک دریائے شیوک، شگر، کئی ندی، نالے اور چشمے مجھ میں مل کر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ آگے بھی دیکھنا میں کن کن اور کیسے کیسے ندی نالوں کو نگلتا ہوں۔ میرا وجود کافی بھرپور ہو چکا ہے۔ اب میں اپنا غصہ نکالنے اور سیلاب…