سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (آخری حصہ)
’دودوچنیسر‘ کی عظیم رزمیہ داستان کو لوک شاعر ’بھاگو بھان‘ نے لوک گاتھاؤں میں تخلیق کیا جو جنوبی سندھ کے کسی گاؤں میں رہتا تھا۔ اُن دنوں یعنی سومرا دور میں جو مشہور بستیاں تھیں جیسے تھری، شاہ کپور، روپاماڑی اور وگھہ کوٹ، ان بستیوں کا بھاگو بھان نے اپنی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط37)
”سکندر کی اگلی منزل پانچ دریاؤں کی سر زمین پنجاب تھی۔ سکندر اعظم ٹیکسلا سے دریائے جہلم ’ہائیڈوپس‘ (یونانی دریائے جہلم کو hydespes کہتے تھے) کے کنارے ’مونگ‘ (منڈی بہاؤالدین کا نواحی قصبہ) پہنچا، جہاں راجہ پورس اور یونانی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط30)
تھور وادی سے چلاس تک گزرتے سندھو نے اس قدر گہری کھائیاں کھود دی ہیں کہ یہاں صرف چند گھنٹے ہی دھوپ پہنچتی ہے۔ یہ عظیم بلندیوں اور غاروں جیسی پستی والی سرزمین بدصورت ہے اور یہاں سے گزرتے دل پر عجیب سا اثر ہوتا ہے۔ اس وادی کی وسعت میں سندھو خاموشی مگر تیزی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط28)
برزل ٹاپ زمانہ قدیم سے ہی سری نگر اور گلگت کے درمیان اہم تجارتی راستہ تھا۔ اس راستے پر سفر زیادہ تر گھوڑوں یا یاک پر ہی ہوتا تھا۔ بنجی شاہراہ ریشم پر قدیم زمانے سے ہی اہم قصبہ ہے۔پرانے زمانے میں یہ جگہ گلگت اور ڈوگرہ راج کے درمیان بارٹر تجارت کا اہم مرکز…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط27)
عالم گڑھ کا بیلی سسپنشن برج ایک سو بتیس (132) میٹر لمبا ہے۔ اسے ایک مقامی ٹھیکے دار ”سید عالم“ نے تعمیر کیا اور انہی کا نام اس کے نام کی نسبت بن گیا ہے۔ میں پانچ سو (500) میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ دریائے گلگت پر اب جدید پل بنا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط26)
بہار کا موسم ہے اور اس کے رنگ درختوں اور ماحول پر بھی بکھرے ہیں۔ یہ پھل چننے کے دن ہیں۔ میں آبشار کے قریب جا بیٹھا ہوں۔ بہتے پانی کی جھاگ سے اٹھنے والے پانی کے قطرے میرے چہرے کو بھگو رہے ہیں۔ آبشار کا پانی نیچے تالاب کی صورت جمع ہو کر موجیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط24)
کچھ دنوں سے دریا کے ساتھ سفر کرتے کرتے میں اس کے شور کا عادی ہو گیا ہوں لیکن آج صبح میری آنکھ دریا کے شور سے نہیں بلکہ پرندوں کی چہچہاہٹ سے کھلی ہے۔باس ہمیشہ کی طرح پہلے ہی تیار ہو چکے ہیں۔ نین جینز کی پینٹ اور سبز جیکٹ میں کسی اور دنیا…