سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 10)
دم چک سے میں نے جیپ کرائے پر لی ہے۔ پنتیس (35) سالہ صحت مند، باریش، گوری رنگت، دم چک کا رہائشی نواز میرا ڈرائیور اور ہم سفر ہے۔ (کیا خوش قسمتی ہے کہ بہاول پور میں میرے ایک سرکاری ڈرائیور کا نام بھی نواز تھا۔ وہ کمال درویش منش اور عمدہ ڈرائیور تھا۔) میرا…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 9)
”میں تقریباً دو سو (200) میل یا تین سو بیس (320) کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے تبت کی شمال مشرقی سرحد عبور کر کے چھیالیس (46) سو میٹر کی بلندی سے مقبوضہ کشمیر کی وادیِ لداخ میں داخل ہوتا ہوں۔ لہہ سے تیس (30) کلومیٹر دور میری پہلی ڈسٹری بیوٹری دریائے ’زنگسار‘…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 8)
”میرے دوست؛ قدیم دور میں میرے اس بالائی خطے میں پل (برج) نہ تھے۔ مسافر، مقامی لوگ اور جانور تیر کر یا پیدل ہی مجھے عبور کرتے تھے۔ پھسلتے پتھروں اور تند و تیز لہروں میں مجھے پار کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ خچر، یاک اور ٹٹو طاقت ور تیراک ہیں۔ آدمی ان کی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 7)
”وہ شخص جو برہما پتر اور میرے منبع دریافت کرنے کا پختہ عزم لے کر یہاں آیا سویڈش سیاح ’سیون ہیڈن‘ تھا جو 1907 ء میں مانسرور پہنچا۔ وہ لکھتا ہے؛ ’جھیل مانسرور کی سطح گنبد کی طرح ہے جس کی سنہری ریت پر ایک بڑا درخت اگا ہے جس پرسادھوؤں کے بے شمار سنہرے…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 6)
چلو میں اپنی کہانی آگے بڑھاتا ہوں، ”دارا پہلا بادشاہ تھا جس نے میرے منبع کی تلاش میں اپنے سالار ’اسکا لکس‘ کو بھیجا۔ پہلا یونانی ’کنیشاس‘ تھا جس نے ایرانیوں کو میرے بارے معلومات فراہم کیں۔ سکندر کے مورخین میں ’ٹالمی، آریان، سواٹر، نیرچس‘ وغیرہ نے مجھ پر…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 5)
دو دہائیوں بعد مجھے اس کی زندگی پر لکھنے کا شوق پیدا ہوا تو میں پھر اس کے پاس چلا آیا ہوں۔ کئی سالوں کی غیرحاضری کا شکوہ کر کے بولا ”کیسے آئے ہو اتنی مدت کے بعد کہاں تھے تم؟“ میں نے جواب دیا؛ ”دوست! تمھاری کہانی لکھنے کو دل چاہا تو تمھارے پاس…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 4)
میں (سندھو) کون ہوں؟ ”میں یہاں سنگی کھابب پر کھڑا دریائے سندھ کو زمین کی آغوش سے جنم لیتے دیکھ رہا ہوں۔“ سیون ہیڈن دنیا میں بے شمار دریا ہیں نامور، منہ زور اور تاریخی۔۔ دریائے نیل کا ذکر اگر قرآن پاک میں ہے تو بہت سے دریاﺅں کا تذکرہ ہندوﺅں کی مقدس کتب…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 2)
میرے ہمسفر وہی پرانے اور آپ کے شناسا ہیں ماسوائے لالہ اعجاز کے کہ وہ جولائی 2016ء میں اس دار فانی سے اپنے ابدی گھر جا چکے ہیں۔ چوہدری ریاض احمد، ملک مشتاق ساتھ ہیں، جبکہ لالہ اعجاز کی یادیں۔ کچھ نئے ہمسفر بھی ہیں جیسے میرے پھوپھی زاد بھائی قیس مظہر حسین۔…