نیکی کر، دریا میں ڈال (افسانہ)
استاد خدابخش انجمن کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، گاؤں کے تمام معززین اجلاس میں شریک تھے۔ اس انجمن کو استاد خدابخش نے بڑی محنت اور جانفشانی کے بعد بنایا تھا۔ انجمن کی کوششوں سے گاؤں میں ایک لائبریری بھی قائم کی جا چکی تھی، اس کے علاؤہ استاد خدابخش شام کے…
زندگی کا راز (افسانہ)
(الوالعزم چیلے نے گرو سے پوچھا، مہاراج زندگی کا کیا راز ہے؟ گرو نے ایک بار آنکھیں کھول کر کہا، ”موت!‘‘ اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔) دریا کے کنارے بیٹھا شب دیال اپنے خیالات کی دنیا میں کھو گیا تھا۔ دور افق میں لال لال بدلیاں نیلی ہو گئی تھیں اور مٹیالے رنگ…
اکبر گبول اور گرینڈ مسجد (افسانہ)
سحر کی گود میں سورج ابھی نیند سے جاگنے کے لیے اپنی آنکھیں مَل رہا تھا۔ فضا میں اذان کی نرم آواز مصری کی ڈلی کی طرح گُھل کر تحلیل ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا کر آہستہ آہستہ اپنے پر تول رہے تھے۔ ’پہوارو‘ کے پہاڑوں پر قائم ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی ہوا میں…
تپتی دھوپ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
بچہ: ”اماں۔۔ اماں! کل صبح سے پہلے مجھے جگا دینا۔“ ”تم پھر نہیں جاگو گے۔“ ”نا جاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔“ پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سے بھرپور چمک دوڑ گئی۔ ”اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے…
ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
عدلیہ، پارلیمان اور سوالات کے شرارتی بچے
گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور پکڑ دھکڑ پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے سماعت ہوئی۔ اس دوران ایک سوال اٹھا، جو شاید تاریخ میں محض ایک جملہ نہ رہے بلکہ ایک بڑے فکری…
ایک بُدھو (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس، جولیا ویسلوینا کو اپنی اسٹڈی میں بلایا۔ ”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینا!“ میں نے کہا، ”آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں۔۔ اگرچہ تمہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفاً کوئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ…
تاریخ کا خوف
تاریخ ہمیشہ کئی نظریات اور مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس لیے تاریخ کے ذریعے حکمراں طبقے اپنے عدل، انصاف، فیاضی، سخاوت، بہادری اور شجاعت کی داستانیں محفوظ کراتے رہے ہیں۔ تاریخ میں ہم یہ روایت دیکھتے ہیں کہ جب ایک شاہی خاندان کی حکومت ختم ہوتی ہے اور…