نسل پرستی کیسے پروان چڑھی؟
نسل پرستی کے نظریے کو یورپ کے سامراجی ملکوں نے اختیار کر کے سفید فام نسل کو اعلیٰ اور برتر ثابت کیا۔ غیر یورپی اقوام ان کے نزدیک غیر مہذب کمتر، کاہل، سست اور جاہل تھیں اور ان کی جسمانی خصوصیات بھی بدشکل اور بَھدی تھیں۔ جب 1492 میں کولمبس نے حادثاتی طور…
نسل پرستی اور روزمرہ کی زندگی
سفید فام نسل پرستی جدید دور کی پیداوار ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر یورپی ملکوں نے ایشیا اور افریقہ میں اپنی کالونیاں بنائیں اور ان کی قوموں کو نسلی اعتبار سے کم تر بنا کر ان پر حکومت کی۔ سفید فام نسل پرستی نے اپنے سامراجی عزائم کو پورا کرنے کے لیے دوسری اقوام…
سفید فام نسل پرستی کی تاریخ
قوموں کے درمیان فرق کو قائم رکھنے کے لیے کبھی تہذیب کا سہارا لیا جاتا ہے، کبھی جسمانی خوبصورتی اور صحت اور کبھی جلد کے رنگ کو۔ ابنِ خلدون نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے کہ وہ قومیں جو بہت سرد یا گرم علاقوں میں رہتی ہیں، وہ کوئی بڑی تہذیب پیدا نہیں کر سکتیں۔…
برطانیہ: سیاہ فام اور ایشیائی افراد کو نسلی امتیاز کا سامنا
ایک نئی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں سفید فام اور ایشیائی نژاد افراد اپنے روزمرہ زندگی میں تواتر کے ساتھ نسلی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں دی میٹرو کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی تھنک ٹینک برٹش فیوچر نے نسل، شناخت اور تعصب کے حوالے سے عوامی رویوں کے بارے میں…