ہم طوطا فال نکالنے والی ریاست بن چکے ہیں؟
جب حالات بے قابو ہو جائیں اور بظاہر کوئی بھی انہیں سدھارنے کے قابل نہ رہے تو خود کو تسلی دینے اور نااہلی چھپانے کے لیے یا تو ’شان دار ماضی‘ کی داستانیں کام آتی ہیں یا پھر اردگرد کی ہم سے بھی گئی گذری مثالیں مثلاً سردار موچی سے لے کے محلے کی مسجد…