اسرائیل کے بم اور فلسطین کے ایک شاعر اور استاد کا مارکر
غزہ کے شاعر اور استاد رفعت العریر نے اپنی ہلاکت سے چند دن پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم کچھ بھی کہہ لیں، کچھ بھی کر لیں، اسرائیلی ہمیں مار دیں گے۔‘ اُس کے بعد کہا تھا کہ ’غزہ میں نہ پانی ہے نہ کہیں بھاگنے کا کوئی راستہ۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ…
وقت کے دھارے کو الٹا چلانے کی اسرائیلی خواہش!
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) عرب اسرائیل جنگ 1967 کے خاتمے پر ایک اجلاس میں بعد از جنگ امکانات پر بحث کر رہی تھی صہیونی ایوان میں ایک طرف اسرائیل کے 1948 میں شروع کردہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے پروگرام کو بڑھاوا دینے کے حق میں گلا پھاڑ…