سلطنتِ عدلیہ کے ڈھلتے سائے
چلیں جی اشرافیہ کو بالخصوص اور اہلِ وطن کو بالعموم آئی ایم ایف کا 24 واں سات ارب ڈالر کا قرض پیکج مبارک ہو۔ اس شبھ گھڑی میں وزیرِ اعظم برادرِ بزرگ چین، سعودی عرب، امارات نیز قرض کھینچ سرکاری ٹیم اور آرمی چیف کے بھرپور تعاون اور کوششوں کا شکریہ ادا کرنا…
نظام آلودہ تھا، اب تعفن زدہ ہو چکا!
چھ ججز کا خط منظر عام پر آتے ہی کہیں انقلاب کی نوید سنائی گئی تو کہیں سازش کی بو سونگھتے ہوئے مناسب بندوبست کیے جانے کا اعلان ہوا۔ یہ پریم پتر اچانک منظرِ عام پر نہیں آیا۔ اس کا بیک گراؤنڈ ہے، دو بار یہ ججز اپنے چیف جسٹس سے شکایت لگا چکے ہیں۔…
خفیہ اداروں پر عدلیہ معاملات میں مداخلت کا الزام۔۔ چھ ججوں نے اپنے خط میں کیا لکھا ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسٰی کو لکھے گئے خط میں پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ خط لکھنے کے بعد بار ایسوسی ایشنز نے ججوں کے…
چنیوٹ: قیام پاکستان کے وقت درج ہونے والی ایف آئی آر، ’76 برس بعد بھی انصاف نہیں ملا‘
یہ پاکستان بننے کا دوسرا دن تھا، جب صوبہ پنجاب کے شہر چنیوٹ میں چوری کی ایک واردات ہوئی، جس کا مقدمہ مقامی چوکی میں درج کرایا گیا۔ اب چھہتر برس پرانے چوری کے اسی مقدمے کے لیے سائلین نے دوبارہ پولیس سے رابطہ کیا ہے چوری کا یہ واقعہ پاکستان بننے کے اگلے…
ایسی بھی کیا جلدی تھی۔۔ قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفکیشن تین ماہ پہلے ہی جاری، وجہ کیا ہے؟
حیران کن طور پر حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے آئندہ چیف جسٹس کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن وقت سے بہت پہلے ہی کر دیے جانے کے بعد اس اقدام کی وجوہات پر بحث اور تجزیے جاری ہیں اور سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر ایسی بھی کیا جلدی تھی؟ حکومتی نوٹیفیکیشن کے مطابق…
نیک بادشاہ یا قانون کی حکمرانی؟
قانون کی حکمرانی کی عالمی فہرست میں پاکستان کا نمبر بہت نیچے آتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس کوئی گفتگو کوئی مباحثہ نہیں ہو رہا۔ حالاں کے اس ملک کو در پیش بیشتر مسائل کی وجہ ہی قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ قانون کی حکمرانی کی کچھ بنیادی شرائط ہیں، جن…