کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
وادی پاچران سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارا سفر مول کے تاریخی شہر کی جانب جاری تھا، جہاں راستے میں مول ندی جیسی خوبصورت ندی بھی پڑتی ہے۔ مول ندی نہ صرف جامشورو بلکہ کراچی کے ملیر کی ایک وسیع اراضی کے لیے بھی بے حد اہم ہے، خاص طور پر ملیر ندی کے تناظر میں…
کینجھر جھیل میں ’فلوٹنگ سولر پینلز‘ کا منصوبہ: ماحولی اور معاشی اثرات
رومانوی داستان نوری جام تماچی کے حوالے سے مشہور کینجھر یا کلری جھیل کراچی سے ایک سو بائیس کلومیٹر کے فاصلے پر ٹھٹہ کے ضلع میں واقع ہے، تقریباً 135 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی یہ جھیل محکمہ انہار (آبپاشی) سندھ کی ملکیت ہے، اس جھیل کو دریائے سندھ سے نکلنے…