کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔۔ (افسانہ)
شہر کا آسمان سرمئی تھا، جیسے حقیقت اور فریب کے درمیان کشمکش جاری ہو۔ لوگ سڑکوں پر چلتے، اپنی دنیا میں مگن تھے، لیکن ان کی نظروں میں ایک عجیب سا خالی پن تھا۔ اس شہر کا ہر کونہ محرومی کی ایک داستان سنا رہا تھا، لیکن وہ داستانیں کہیں دفن تھیں، حکومت کے…
دَم (منتخب افسانہ)
رات کی تاریکی ماحول کی سنگینی میں گھل مل گئی۔ تاریکی، سناٹا اور چاروں کھونٹ گونجتی ہوئی خاموشی کی چیخ، جو بند کمرے میں بھی یوں گھسی آ رہی تھی جیسے اسے روک ٹوک کی پروا نہ ہو۔ خاموشی کی موجودگی میں کمرے میں پھر اور کس چیز کا گزر ہو سکتا تھا۔ ابھی ابھی…
کنجوس جواری (افسانہ)
اس بات کا حتمی اندازہ لگانا تو شاید ممکن نہیں کہ کریم بخش کو کنجوسی کی عادت کب سے پڑی تھی، دراصل بخیلی کی اپنی ایک دنیا ہے جس میں آدمی ایک بار داخل ہو جائے تو باہر نکلنا ممکن نہیں رہتا، پھر چاہے ساری دنیا اس آدمی کو بُرا بھلا کہتی رہے۔ کریم بخش…
ایک مرتی جھیل کا دکھ (افسانہ)
میں ایک جھیل ہوں، جس نے اپنی گہرائیوں میں زمانوں کا عکس محفوظ کر رکھا ہے۔ میرے کناروں پر زندگی کے کئی رنگ کھلے، کئی مناظر بنے اور بکھرے، مگر آج میں تیزی سے خشک ہو رہی ہوں، جیسے مرنے کے قریب ایک بوڑھا جسم اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو۔ میں زمانوں سے قائم،…
پندرہویں سواری (منتخب اردو افسانہ)
ان لاکھوں بھاگتی دوڑتی گاڑیوں میں ایک چودہ مسافروں کے لیے بنی گاڑی میں وہ پندرہویں سواری تھا، جو اکڑوں ہو کر بیٹھا تھا۔ ’تو کیا میں یہاں اتر جاؤں؟‘ اس نے سوچا۔ ’لیکن اگر میں اتر گیا تو پھر مجھے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے گا۔‘ اسے محسوس ہوا کہ اس کی سانس رُک…