ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین، ماحول اور مقامی ذریعہ معاش کا محاصرہ
سندھ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈپارٹمنٹ نے ملیر میں کراچی ایجوکیشن سٹی کے لیے مزید 2,817 ایکڑ زمین مختص کرنے کی پیش رفت کی ہے۔ اس توسیع میں وسیع زرعی رقبہ شامل ہے جس سے کراچی کی سب سے بڑی سبز پٹی کے ختم ہونے اور شہری خوراکی رسد کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔…
تہذیبوں کا تصادم : فطرت اور کنکریٹ کی جنگ
تصویر کا ایک منظر ہزاروں سال پرانی زرعی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرسبز کھیتوں میں گائے کھڑی ہے، اور دوسرا منظر نام نہاد شہری ترقی کی ہے، جس کی نمائندگی مطلب قبضہ بھیڑیا ٹاؤن کی گرینڈ مسجد کررہے ہے۔ یہ دونوں مناظر ایک فریم میں ہیں، مگر ان کے درمیان…
اکبر گبول اور گرینڈ مسجد (افسانہ)
سحر کی گود میں سورج ابھی نیند سے جاگنے کے لیے اپنی آنکھیں مَل رہا تھا۔ فضا میں اذان کی نرم آواز مصری کی ڈلی کی طرح گُھل کر تحلیل ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا کر آہستہ آہستہ اپنے پر تول رہے تھے۔ ’پہوارو‘ کے پہاڑوں پر قائم ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی ہوا میں…
ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
ملیر کی سیاسی جدوجہد: مسائل، حکمت عملی اور مستقبل کی راہ
پاکستان میں اقتدار کی سیاست کرنے والی بیشتر جماعتیں عوامی طاقت کے بجائے بیرونی امداد اور ’مقتدر‘ حلقوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک عوامی حمایت محض منشور کی سیاہی تک محدود ہوتی ہے۔ سندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی اب ایک مخصوص طرزِ سیاست میں جکڑی جا چکی…
ملیر کے اجتماعی حقوق کے لیے ایک منظم تحریک کی ضرورت
سندھ میں برسرِ اقتدار زرداری سرکار، پوری سرکاری مشنری کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے کارندوں اور آلہ کاروں کے ذریعے زرخیز اور شاداب ملیر کو لقمہِ تر سمجھ کر ملیر پر اس طرح ٹوٹ پڑی ہے کہ مستقبل میں ہمارے لیے ایک پارک کے لیے بھی جگہ نہ بچ پائے گی۔۔ پورے…
ممنوعہ علاقہ: کِھیْرتَھر نیشنل پارک
”زمین کوئی سرمایہ نہیں جس پر ہمارا مالکانہ حق ہو، بلکہ یہ وہ مقام ہے جس کے لیے ہمیں اس کی عطا کردہ زندگی کے تحفے کے بدلے اخلاقی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ یہاں وہ سوال ہے، جس کا ہمیں آخرکار سامنا کرنا ہوگا: کیا زمین محض اشیاء کا ذریعہ ہے، یا یہ ہمارے سب…
ایجوکیشن سٹی میں آغا خان ہاسپٹل کی زہریلی ہوائیں
کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے لہو سے ہماری قبروں پہ ’ترقی‘ کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے، چاہے وہ پچھلے پچھتر سال سے کراچی شہر کا پھیلتا کنکریٹ کا جنگل ہو، جس میں کراچی کے انڈیجینئس لوگوں کو اپنی ہی زمینوں، گھروں سے بےدخل کیا گیا، ان پچھتر سالوں میں قبضہ مافیا و…