ایران آوارگی (قسط-7)
صبح ہم لاشار کے گاؤں کوپچ سے اپنے میزبانوں کی تین گاڑیوں میں ایران شہر کے لیے روانہ ہوئے۔ میزبانوں نے رات کو فون کر کے لاری اڈہ سے ہمارے لیے مشہد کی ٹکٹیں بک کروائیں تھیں۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ سیستان و بلوچستان صوبے کے صوبائی ہیڈ کوارٹر زاھدان میں…
ایران آوارگی (قسط 6)
گزشتہ قسط میں میں نے لاشار کی وجہِ تسمیہ کے حوالے سے دو روایات کا تذکرہ کیا تھا، اس بارے میں (فیسبک پر) ایک کمینٹ میں امین ہوتی نے یہ لکھا کہ ”یہ لاش آور (لاشیں بہا کر لانے والی نہیں) بلکہ ”لاش+وار“ ہے، جس کے معنیٰ ہیں: لاش کھانے والی ندی“ کیونکہ اس ندی…
ایران آوارگی (قسط 5)
گزشتہ قسط میں، مَیں نے قصر قند سے پہلے ایک خوبصورت علاقے ’ھیت‘ کی بات کی تھی۔ علاقوں کی خوبصورتی کے بارے میں ایک بلوچی شعر ہے، جس میں ھیت، گنجا باد، بگ، پارود، راسک، باھو، کیچ کا ذکر ہے: ھیتءء گنجاباد ءء بگاں، پارودگوں ھاتوئیں جناںز راسک گوں ٹی ءٔ…
ایران آوارگی (قسط 2)
چابہار کے معنی یہ ہیں کہ "چا” "چات” کنویں کو کہتے ہیں۔ اس علاقے میں کسی زمانے میں بہت سارے کنویں تھے، جس سے زراعت کرتے تھے۔ ان کنووں کے بڑی تعداد میں ہونے کی وجہ سے کہا گیا کہ یہاں چاتوں (کنووں) کی بہار ہے۔ اس طرع یہ چابہار ہوا۔…