یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
کسی کا اچانک غائب ہو جانا، یک دم کسی پریس کلب یا ٹی وی چینل پر نمودار ہو جانا، کمرہِ عدالت سے ضمانتی کاغذ لہراتے ہوئے باہر نکلتے ہی بنا نمبر پلیٹ کی کسی گاڑی میں ڈنڈہ ڈولی ہو کے اڑن چھو ہو جانا۔ ان میں سے کچھ بھی ہرگز ہرگز اب کوئی غیر معمولی…
رزق اپنی ناقدری کبھی نہیں بھولتا
آٹھ ارب کی دنیا میں روزانہ اسی کروڑ انسان بھوکے سوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خدا انہیں آزما رہا ہے یا قدرت نے کرہِ ارض پر انسان سمیت ہر ذی روح کے لیے خوراک کا حصہ مختص نہیں کیا، مگر پیٹ بھروں کی لاپرواہی، ناشکری اور ہوس ان اسی کروڑ لوگوں کا پیٹ خالی رکھنے…
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یہ بات ہے دسمبر دو ہزار گیارہ کی، اس وقت کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف کی فلاحی اسکیم کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے حسبِ معمول دل کے ایک لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مریضوں کو دواؤں کی مفت سپلائی جاری تھی۔ ان دواؤں میں کراچی کی ایک فارماسيوٹیکل…
مہمانوں کی آمد مرحبا!
بچپن کی یادوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کبھی گھر میں اعلان ہوتا کہ کل پرسوں کوئی اہم مہمان آنے والا ہے اور وہ چند دن قیام بھی کرے گا تو بس پھر کیا تھا، سب لگ پڑتے۔۔ فرش چمکائے جاتے، کونوں کھدروں میں جمع شدہ کچرا کھرچ کھرچ کے صاف ہوتا،…
افریقہ برائے فروخت نہیں رہا (قسط دوم/آخری)
آپ نے کبھی نہ کبھی ٹمبکٹو کا نام تو سنا ہوگا۔ آج یہ نام غیرسنجیدگی کا استعارہ ہے مگر یورپی طاقتوں کی ہوس ناک نگاہوں سے قبل ٹمبکٹو مغربی افریقہ کی خوشحال ترین سلطنت مالی کا دارالحکومت تھا، جہاں چہار جانب کے تجارتی قافلے ملتے تھے۔ دو ہزار تیرہ میں اس شہر…
برکس اتحاد عالمی معیشت کے لیے کتنا مفید؟
جب دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اور سوویت یونین کے مابین چھڑنے والی سرد جنگ میں دونوں بڑی طاقتیں چھوٹے ممالک کو اپنے اپنے کیمپ میں لانے کے لیے طرح طرح سے رجھا رہی تھیں تو اس دباؤ سے تنگ آ کے انیس سو پچپن میں سوئیکارنو کی دعوت پر تیسری دنیا…
وہ دن دور نہیں، جب بجلی مفت ملے گی
ضیا دور تک سنسر، کوڑے، تعزیر، مشائخ، الذولفقار، غیر جماعتی نظام، مثبت نتائج، ملٹری کورٹس، نشریاتی دوپٹہ جیسے الفاظ سے تو کان خوب مانوس تھے۔ مگر لوڈ شیڈنگ کس پرندے کا نام ہے، کوئی نہیں جانتا تھا۔ یا واپڈا تھا یا پھر کے ای ایس سی۔ بجلی کبھی کبھار جاتی ضرور…
اصل شتر مرغ میں ہوں
ہم بحیثیت قوم الحمداللہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر یقین رکھتے ہیں مگر ان بچوں اور بچپن کے تحفظ کا کام دیگر بنیادی ذمہ داریوں کی طرح اللہ پر چھوڑ رکھا ہے۔ ہماری ترجیحات میں نہ تو حال میں زندہ بے حال آبادی شامل ہے اور نہ مستقبل کی پود کی معصوم پنیری۔…