سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط35)
سندھو کچھ خاموشی کے بعد داستان آگے بڑھانے لگا ہے، ”ہم پٹن سے تقریباً اڑتیس (38) کلو میٹر دور ’بشام‘ پہنچے ہیں۔ شانگلہ کا ضلعی ہیڈ کوراٹر ایک اہم تعلیمی و تجارتی مرکز ہے۔ آج کے سوات اور رگ وید کا ’اودیانہ‘۔ مقدونیہ کا سکندر بھی یہاں فوج سمیت اترا تھا۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط34)
اب ہم خوشحال خاں خٹک کی سرزمین پر ہیں۔۔ گل گنٹردہ دتورے، کہ کابک دے کہ کشمیر۔ میٹرنی دی چہ یادیگی، پہ سمندر وہم پہ دلیر۔۔ (خوشحال خاں خٹک) (فتح تلوار کی مرہونِ منت ہے چاہے کابل ہو یا کشمیر۔ فاتح اور بہادری کو لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اپنے گیتوں میں بھی اور…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط32)
”چلاسی عورت بہت محنتی ہے، سارا دن کام کرتی ہے۔ مجال ہے کسی کے جسم پر ذرا سا بھی موٹاپا نظر آئے۔پیدل سفر، دن بھر کی مشقت، سادہ غذا سبھی موٹاپے کے دشمن ہیں۔ یہاں کی عورت صبح سویرے اٹھتی ہے۔ دودھ دوھنے سے لے کر لسی بنانے اور مکھن نکالنے تک، ناشتے سے رات…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…