سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط65)
سندھو بتاتا ہے ”میرے ذریعہ تجارت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے کنارے سرکش، لڑاکے اور قانون شکن قبائل آباد تھے اور تجارتی نقطہ نگاہ سے سفر کرنے والے قافلے خود کو کبھی محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ یہ قبائل اس قدر سرکش اور لڑاکے تھے کہ سکندر اعظم کے بہت…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط64)
خیرپور ریاست کے سابق میروں کا ایک شکوہ ہے کہ شاید اس ریاست اور گورنر جنرل پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان ہونے والے معاہدہ پر مکمل طور پر یا اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ میر سہراب خاں کی قائم کردہ ”تماثیل مہرانو“ (sanctuary…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط60)
ہم کشمور اور گڈو بیراج کو پیچھے چھوڑتے روہڑی کو رواں ہیں۔بایک سو ساٹھ (160) کلو میٹر کی یہ مسافت انشاءاللہ ہم اڑھائی گھنٹے میں طے کریں گے۔سندھو لمبی خاموشی توڑتے بولا؛ ”سنو سیاحو! کیا تم میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ مجھ پر کُل کتنے بیراجز تعمیر کئے گئے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط48)
کالا باغ کے بارے سندھو نے بتایا؛ ”کالا پشتو زبان کا لفظ ہے مطلب گاؤں یا ڈھوک جبکہ باغ سے مراد باغ ہی ہے۔ کالا باغ یعنی باغ جیسا گاؤں۔ یہ قصبہ میرے مغربی کنارے تحصیل عیسیٰ خیل میں واقع ہے۔ سرائیکی اور ہند کو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لوگ سادہ، پردے کے پابند،…