ہم جماعت (بنگالی ادب سے منتخب کہانی)
ابھی صبح کے سوا نو بجے ہیں۔ موہت سرکار نے گلے میں ٹائی کا پھندہ ڈالا ہی تھا کہ اس کی بیوی ارونا کمرے میں آئی اور بولی، ”تمہارا فون۔‘‘ ’’اس وقت کون فون کر سکتا ہے بھلا۔‘‘ موہت کی ٹھیک ساڑھے نو بجے دفتر جانے کی روٹین رہی ہے۔ اب گھر سے دفتر کے…
بوریت کے بھی فائدے ہو سکتے ہیں؟
گرمیوں کی لمبی دوپہروں میں جب وقت نہ گزرنے کی شکایت سے تنگ آ کے ہم لوگ پنکھوں والے کمرے چھوڑ، ننگے پاؤں تپتی گلی میں نکل جاتے تھے، تب، اگر کوئی بتاتا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب تمہارے ہاتھ میں ٹی وی، ٹیپ ریکارڈ، وی سی آر، ریڈیو، اخبار، ہزاروں کتابیں…