”ریاست چھینی ہوئی زندگیاں لوٹا دے۔“ سمی بلوچ کا انصاف کے حصول تک مزاحمت جاری رکھنے کا عزم
سمی دین بلوچ کے بچپن اور نوجوانی کے خوبصورت سال جبری طور پر لاپتہ کیے گئے والد کی تلاش میں کہیں کھو گئے۔ وہ اس وقت صرف دس برس کی تھیں، جب انہیں 2009ء میں پہلی مرتبہ اپنے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بازیابی کے لیے ایک احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہونا…