سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)
۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط48)
کالا باغ کے بارے سندھو نے بتایا؛ ”کالا پشتو زبان کا لفظ ہے مطلب گاؤں یا ڈھوک جبکہ باغ سے مراد باغ ہی ہے۔ کالا باغ یعنی باغ جیسا گاؤں۔ یہ قصبہ میرے مغربی کنارے تحصیل عیسیٰ خیل میں واقع ہے۔ سرائیکی اور ہند کو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لوگ سادہ، پردے کے پابند،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط47)
”لو میں کوہ سلیمان کے سلسلے میں پہنچ گیا ہوں۔ بارش برس جائے تو اس پہاڑی سلسلے کے ندی نالوں اور رودکوہیوں میں طغیانی آجاتی ہے، بعض تو ایسے بپھرتے ہیں کہ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ جب یہ طغیانی سے لدے مجھ میں اترتے ہیں تو میں بھی پرجوش ہو جاتا ہوں۔ خوب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط35)
سندھو کچھ خاموشی کے بعد داستان آگے بڑھانے لگا ہے، ”ہم پٹن سے تقریباً اڑتیس (38) کلو میٹر دور ’بشام‘ پہنچے ہیں۔ شانگلہ کا ضلعی ہیڈ کوراٹر ایک اہم تعلیمی و تجارتی مرکز ہے۔ آج کے سوات اور رگ وید کا ’اودیانہ‘۔ مقدونیہ کا سکندر بھی یہاں فوج سمیت اترا تھا۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط29)
شاہراہِ ریشم بائیں گھومتی قراقرم کے پہاڑوں پر بل کھاتی ”رائے کو ٹ برج“ پہنچتی ہے جبکہ میں سیدھا آگے کو رواں ہوں۔۔ سندھو کے پار ہمالیہ کی عمودی چٹانیں اس پر سایہ کئے ہیں۔ کہیں کہیں سبزہ بھی ہے۔ لینڈسلائیڈنگ آج بھی اس شاہراہ کا بڑا خطرہ ہے۔ رائے کوٹ تک کا…