پرانا ملیر: ۱۹۹۹ میں لکھی گئی ایک تحریر (حصہ اول)
جو ملیر ہم نے دیکھا، اُس کا تو اِس وقت نام و نشان تک نہیں رہا اور اپنے آباؤ اجداد سے جو سنا، وہ تو صرف دیو اور پریوں کی دیس جیسی کہانی لگتی ہے۔۔ البتہ اگر ملیر ندی کے کناروں سے سفر کا آغاز کیا جائے، ابتدا ڈفینس سوسائٹی کی عالیشان عمارتوں سے کی…