ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
اس ہفتے کی تصاویر
یہ تصویر حفیظ بلوچ نے بھیجی ہے، جو ملیر کے علاقے کاٹھور میں لی گئی ہے، جب دھرتی نے بارشوں کے بعد سبزے کی چادر اوڑھ لی ہے۔۔ بارشوں کے بعد یہ دھلا آسماں، یہ سبز چادر اوڑھے پاک زمیں، یہ پرندوں کی مستیاں اور خوشی سے ادہر ادہر گھاس چرتے مویشی ارض ملیر…
بارش کی تباہ کاریاں: میگا پراجیکٹس زیر بحث
حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان میں آٹھ کے قریب چھوٹے ڈیم نقصانات سے دوچار ہوئے بلکہ ملک کے کئی حصوں میں سڑکیں، پل، انڈر پاسز، فلائی اوورز اور دیگر پراجیکٹس بھی کسی حد تک متاثر ہوئے ہوئے اس حوالے سے کئی ناقدین کا…
پاکستان میں نایاب پرندے: کراچی کے رہائشی سلمان بلوچ کو تیز رفتار ترقی سے پرندوں کے مسکن ختم ہونے کا خدشہ
‘آپ کے پاس اگر سرسبز ماحول ہو تو نایاب پرندے آپ کے گھر بھی آ سکتے ہیں، ملیر اور گڈاپ میں حالیہ میگا پراجیکٹس سے نایاب پردیسی پرندے تو کیا مقامی پرندوں کے مسکن بھی متاثر ہوئے ہیں۔‘ یہ کہنا ہے کراچی کے علاقے ملیر کے سلمان بلوچ کا، جنھوں نے پرندوں کے مشاہدے…
کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 9)
باب دوئم: کراچی میں تعمیر شدہ و زیر تعمیر رہائشی اسکیمیں 1974ء میں اسٹیل مل کے لیے 18660 ایکڑ زمین حاصل کی گئی، جہاں 15 سے زائد قد میم گوٹھ تھے۔ اسی طرح 1973ء میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے لیے 13663 ایکڑ زمین حاصل کی گئی، جہاں قائم 35 قدیم گوٹھوں کو بے دخل…