ماں بولی (حصہ ہشتم)
ماں بولی کے اس مرحلے پر ہم برصغیر سے نکل کر اس کے گرد و نواح کی ریاستوں کی طرف دیکھتے ہیں، تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زبان کو اختیار بنانے یا دبانے کے فیصلے قوموں کی تقدیر کس طرح بدل دیتے ہیں۔ اس حصے میں چین اور افغانستان دو ایسے تجربات ہیں جو ایک…
ماں بولی (حصہ ہفتم)
جب بات ریاستوں میں بولی جانے والی ماں بولیوں کی آتی ہے تو اس مرحلے پر ہندوستان اور پاکستان کے لسانی تجربات کو آمنے سامنے رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کون سی زبان بڑی ہے اور کون سی چھوٹی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست نے زبان کو طاقت…
ماں بولی (حصہ ششم)
ماں بولی کے اس پڑاؤ میں ہم بات کریں گے برصغیر میں زبان، اقتدار اور تاریخ کی، اور اس حصے میں قدیم ہندوستان سے تقسیم تک کا ذکر کریں گے۔ زبان کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی۔ انسانی تاریخ میں زبان ہمیشہ طاقت، علم اور اختیار کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ جس کے پاس…
ماں بولی (حصہ پنجم)
ماں بولی کے اس حصے میں آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال کا جواب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قوم، زبان اور شناخت آخر کیوں بنیادی سوال ہے؟ جب ہم ”قوم“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اکثر اسے ایک جذباتی یا سیاسی نعرہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ قوم دراصل ایک زندہ سماجی…
ماں بولی (حصہ چہارم)
سقوطِ ڈھاکا کے بعد یوں محسوس ہوا تھا کہ شاید ریاست اپنی غلطیوں سے سیکھے گی، قومیتوں اور زبانوں کو ان کا وہ حق دے گی جس سے وفاق مضبوط ہوتا ہے، مگر جوں جوں ہم تاریخ کے ابواب پلٹتے ہیں، اندازہ ہوتا ہے کہ واقعات بدل گئے، نقشہ بدل گیا، لیکن ریاستی ذہنیت میں…
ماں بولی (حصہ اول)
یہ یاد نہیں کہ جب پہلی بار اسکول بھیجا گیا تو ماحول کیسا تھا۔ دھندلی یادیں بس اتنا بتاتی ہیں کہ ایک سلیٹ، چاک، ایک کاپی، پینسل اور سندھی کی پہلی کتاب ساتھ تھی۔ کیا پڑھایا جاتا تھا، یہ یاد نہیں، مگر سندھی الف ب بڑی ترنم کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی۔ ایک بلوچ…