سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط44)
جی ٹی روڈ علی الصبح سنسان ہے اور اس کے کنارے وقت کی دھول میں چھپتی ’بہرام کی بارہ دری‘ اشوک اعظم کے دور کے اسٹوپاز، شیر شاہ سوری کی ڈاک چوکی پر بھی ویرانی کا ہی ڈیرہ ہے۔ اس شاہراہ سے گزرنے والے چند ہی لوگ ہوں گے، جن کی توجہ یہ مٹتی گرتی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط34)
اب ہم خوشحال خاں خٹک کی سرزمین پر ہیں۔۔ گل گنٹردہ دتورے، کہ کابک دے کہ کشمیر۔ میٹرنی دی چہ یادیگی، پہ سمندر وہم پہ دلیر۔۔ (خوشحال خاں خٹک) (فتح تلوار کی مرہونِ منت ہے چاہے کابل ہو یا کشمیر۔ فاتح اور بہادری کو لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اپنے گیتوں میں بھی اور…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط29)
شاہراہِ ریشم بائیں گھومتی قراقرم کے پہاڑوں پر بل کھاتی ”رائے کو ٹ برج“ پہنچتی ہے جبکہ میں سیدھا آگے کو رواں ہوں۔۔ سندھو کے پار ہمالیہ کی عمودی چٹانیں اس پر سایہ کئے ہیں۔ کہیں کہیں سبزہ بھی ہے۔ لینڈسلائیڈنگ آج بھی اس شاہراہ کا بڑا خطرہ ہے۔ رائے کوٹ تک کا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (اکیسویں قسط)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی؛ ”راستے میں بہت سی جگہوں کے پرانے لداخی طرز کے نام اب تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ مثلاً ’پرکوٹا‘ اب ’مہدی آباد‘ ہے، ’گڈی کاسڈو‘ اب ’گڈی خاد‘ ہے اسی طرح ’وداشا‘ اب ’چٹانگ‘ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اولڈنگ بھی نیا نام ہے پرانا نام ’اول…
حرفِ تسلی
لوگ ان کے پاس بیمار کو تبھی لاتے، جب وہ جاں بلب ہوتا۔ ڈاکٹر رمن اکثر غصے سے پھٹ پڑتے ”تم ایک دن پہلے کیوں نہیں آ سکتے تھے“ وجہ صاف ظاہر تھی۔ ایک تو پچیس روپے ڈاکٹر کی ملاقات کی بھاری فیس اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کوئی بھی اس حقیقت…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 4)
میں (سندھو) کون ہوں؟ ”میں یہاں سنگی کھابب پر کھڑا دریائے سندھ کو زمین کی آغوش سے جنم لیتے دیکھ رہا ہوں۔“ سیون ہیڈن دنیا میں بے شمار دریا ہیں نامور، منہ زور اور تاریخی۔۔ دریائے نیل کا ذکر اگر قرآن پاک میں ہے تو بہت سے دریاﺅں کا تذکرہ ہندوﺅں کی مقدس کتب…
علیحدگی (چینی ادب سے منتخب افسانہ)
کسی کے بہت بڑے ہاتھ نے مجھے درد کے اذیت ناک جال سے کھینچ کر باہر نکالا اور فضا میں میری پہلی چیخ بلند ہوئی۔ پھر کسی نے مجھے اپنی ہتھیلی پر اٹھا لیا اور سفید بستر پر دراز عورت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”مبارک ہو! بیٹا ہوا ہے۔“ تب اس نے مجھے ایک…
منڈیل بام گیٹ (فلسطینی افسانہ)
”اس سے پوچھو، یہاں سے جانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے یا نہیں؟ بس مجھے یہ بتاؤ مسٹر!“ اسرائیلی کسٹم کا سپاہی چیخا اس کی ڈیوٹی مینڈل بام گیٹ پر تھی۔ وہ بڑی رعونت سے گیٹ کے سامنے ہاتھ باندھے چوکس کھڑا تھا ”جناب! یہ ہماری والدہ کا فیصلہ ہے، وہ یہاں ہمارے ساتھ…