سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط58)
وڈیرے کے ڈیرے سمیت ہر شے پر رات اتر آئی ہے۔ سورج ڈھلنے سے رات اترنے تک کا مختصر سفر ایسے دل موہ لینے والے منظر تراشتا ہے کہ دیکھنے والے کا اللہ کی قدرت پر ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ تصور کریں ڈھلتا سورج، تاحد نظر پھیلا نیلا شفاف افق، سندھو کا انتہائی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط57)
میں اپنے دوست ستاروں کو چاندا ماموں کے گرد جھرمٹ میں چمکتے دیکھ رہاہوں۔یہ دلفریب نظارہ ہے۔ بچپن سے ہی مجھے ان ستاروں اور چندا ماموں سے خاص نسبت ہے۔ اس زمانے میں آسمان صاف اور ستاروں سے چمکتا دمکتا ہوتا تھا۔ کئی بار لگتا یہ ستارے مجھ سے زیادہ دور نہیں ہیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط55)
نئے دن کا آغاز نئے سفر اور نئے عزم سے شروع کرنے کی تیاری ہے۔ لنگر اٹھا لئے گئے ہیں۔ چمکتی دھوپ میں سندھو کے پانیوں پر راج کرتی ہماری کشتی۔ جیسے جیسے سورج بلند ہو رہا ہے، دھوپ کی حدت بڑھ رہی ہے۔ کشتی پانی کی موجوں پر اڑی جا رہی ہے۔ ہوا پانی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط45)
ہم پیدل ہی اس پل سے گزر کر اٹک خورد ریلوے اسٹیشن پہنچے ہیں۔ سر سبز پہاڑوں میں گھرا یہ ریلوے اسٹیشن انیسویں صدی کے ولایت کا کوئی اسٹیشن معلوم ہوتا ہے۔ مجھے لمحہ بھر کے لئے محسوس ہوا میں اٹھارویں صدی کے ’ولیم وڈزورتھ‘ کے ولایت میں ہوں۔ پرسکون ماحول، پلیٹ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط44)
جی ٹی روڈ علی الصبح سنسان ہے اور اس کے کنارے وقت کی دھول میں چھپتی ’بہرام کی بارہ دری‘ اشوک اعظم کے دور کے اسٹوپاز، شیر شاہ سوری کی ڈاک چوکی پر بھی ویرانی کا ہی ڈیرہ ہے۔ اس شاہراہ سے گزرنے والے چند ہی لوگ ہوں گے، جن کی توجہ یہ مٹتی گرتی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط42)
ہم اٹک قلعہ کی مغربی دیوار کے قریب کھڑے ہیں۔ ہوا ٹھنڈی اور موسم خوشگوار ہے۔ میرے دائیں ہاتھ مشرقی سمت اٹک برج ہے، جس کے نیچے دریاؤں کا باپ اباسین (سندھو اس خطہ میں اباسین بھی کہلاتا ہے) پر سکون بہہ رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی پر سکون ہے، جیسے اژدھا شکار نگل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط41)
ہم ’اٹک برج‘ پہنچے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب کو ملاتا یہ پل تاریخی مقام اور میرے دائیں طرف سے بہتے سندھو اور سامنے کالا چٹا پہاڑ کے دامن سے بہتے دریائے کابل کا سنگم بھی۔ اس پل سے ان دریاؤں کے سنگم کا نظارہ شاندار ہے۔ میرے بائیں ہاتھ جرنیلی سڑک کو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 38)
باس کہنے لگے، ”اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے شمال میں جہاں جہاں سے سکندر نے سندھو کو عبور کیا، لوگوں کا خون بے دردی سے بہایا لیکن وہاں کے رہنے والے آج بھی اسے دیوتا کی طرح پوجتے اور اپنا جد امجد مانتے ہیں۔ بر صغیر کی تاریخ پر بھی سکندر کی ذات…