جھوٹ کی سرزمین (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
رَوبی نے پہلا جھوٹ تب بولا تھا، جب وہ سات سال کا تھا۔ اس کی ماں نے اسے شِکنوں سے بھرا ایک پرانا نوٹ دیا اور اسے کہا کہ وہ کریانے والی دکان پر جائے اور اس کے لیے کنگ۔سائز ’کینٹ‘ سگریٹوں کا ایک پیکٹ لائے۔ رَوبی نے اس کی بجائے ایک آئس کریم کون…
قصہ گو (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ ایک گرم سہ پہر تھی۔ریلوے ٹرین اسی حساب سے گرم تھی۔ اگلا اسٹاپ ٹیمپل کومب تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر تھا۔ مسافروں میں ایک چھوٹی لڑکی تھی، ایک اس سے بھی چھوٹی تھی اور ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ بچوں کی خالہ ایک کارنر سیٹ پر براجمان تھی۔ اس کے بالمقابل دوسری…
سیمنٹ کے تھیلے سے ملا خط (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
ماٹ سوڈو یوزو مشین میں ڈالنے کے لیے سیمنٹ کے تھیلے خالی کر رہا تھا۔ اس کے بال اور اوپری ہونٹ گہری سرمئی تہہ میں غرق تھے البتہ اس نے اپنے بقیہ جسم سے سیمنٹ جھاڑ لیا تھا۔ وہ شدت سے چاہ رہا تھا کہ ناک میں انگلی گھسیڑ کر سختیایا ہوا سیمنٹ باہر کھرچ…
گدا (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
صحرا۔ بیچوں بیچ میں ایک کنواں، جس کے گرد کانٹوں دار تار کی باڑھ کھنچی ہوئی ہے۔ باڑھ کے سلاخچے کے پاس ایک بڑا سا ڈول رکھا ہوا ہے۔ ڈول پر موٹی رسی لپٹی ہوئی ہے۔ مسافر، تھکا ہارا اور ننگے پاؤں، پتلون قمیص پہنے، پسینے میں تربتر، اسٹیج پر آتا ہے۔ بہت پیاسا…
پھانسی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آخر ایک صبح مجھے پھانسی دے دی گئی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بہار کا موسم تھا کہ موسمِ سرما۔۔۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مجھے پھانسی دی گئی۔ میرا گناہ ایک غیر معمولی مگرمچھ کے ساتھ دوستی کرنا تھا۔۔ افریقا کا ایک مگرمچھ، جو آنسو نہیں بہاتا تھا! مجھ پر متعیّن فوجی…
سرخ موت (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
سارے دیس پر سرخ موت کا سایہ تھا۔۔ سرخ موت، شہر شہر گلی گلی گھوم رہی تھی۔۔ کوئی اس سے محفوظ نہ تھا۔۔ کسی قاتل کی کبھی کوئی ایسی دہشت نہ چھائی ہوگی، نہ کوئی جلاد ایسا سفاک ہوا ہوگا۔۔ سرخ موت آناً فاناً وار کرتی، اچانک اور ناگہانی۔۔ اس کے شکار ہونے والوں کو…
افواہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے کی انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ جارج ولیمز کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے سیم بلنگز کا نام بطور خزانچی پیش کر دیا۔ حیرت کی بات یہ کہ سب لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کی تائید کی اور وہ بلا مقابلہ ہی خزانچی بن گیا۔ یہ ایندروسکوگن…
ایک جوتشی کا دن (بھارتی ادب سے منتخب افسانہ)
حسبِ معمول بہت پابندی سے دوپہر کے وقت اس نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا پیشہ ورانہ ساز و سامان پھیلایا، جو کہ ایک درجن کوڑیوں، ایک چوکور کپڑے کے ٹکڑے، جس پر مبہم اور پراسرار زائچے بنے ہوئے تھے، ایک بیاض اور تاڑ کی چھال کی لکھی ہوئی تختیوں کے بنڈل پر مشتمل…