من بھید (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
گارشیا، ایک طرف خاموش کھڑا اپنے ناخنوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ کارلوس آرام کرسی پر بیٹھا چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، ماریا لوئیسا کھڑکی میں بیٹھی کچھ بُن رہی تھی۔ کمرے میں ایک مہیب سناٹا طاری تھا۔کتنی دیر سے اُن تینوں نے کوئی بات نہ کی تھی۔ اُس پورے دن ان…
بے خوشبو عکس (اردو ادب سے منتخب ایک شاہکار علامتی افسانہ)
داستان گو اس کہانی کو یوں سناتا ہے کہ جب میں شہر میں داخل ہوا تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ہر طرف ایک شور اور ہنگامہ تھا۔ شہر کے کُل مرد، عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ پکڑے بجا رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں…
دشتِ تمنا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہو گیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے…
کروڑ پتی بھکاری (آئرش ادب سے منتخب افسانہ)
دولت کے بغیر، صرف خوبصورت ہونا بےکار ہے۔ رومانس امیروں کی عیاشی ہے، بے روزگار کا پیشہ نہیں۔ غریب کو پریکٹیکل اور سادہ ہونا چاہیے۔ دلکش نظر آنے کے بجائے مستقل آمدنی ضروری ہے۔ یہ جدید دنیا کے بڑے سچ ہیں، جو ہیو ای ارسکائین کو کبھی نہیں سمجھ آئے۔ بے چارہ…
قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…
آخری فرار
کروڑ پتی مجرم کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔۔ اور اس سزا پر عمل درآمد کے لیے اسے شہر سے دور دراز ایک گمنام جزیرے کی جیل میں قید کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی دولت یا اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ کروڑ پتی مجرم…
اگرتم ایک گھوڑے ہوتے۔۔۔ (افسانہ)
”اگر تم ایک گھوڑے ہوتے تو میں گولی مار کر۔۔ تمکارا۔۔ بھیجا۔۔۔ اڑا دیتا۔۔۔“ ایک گھوڑا ہی کیوں؟ کوئی اور جانور کیوں نہیں۔۔کتا، بلی، چوہا یا کوئی بھی دوسرا جانور ہوتا تو گولی اس کی کھوپڑی سے بھی گزر سکتی تھی۔ ہوش سنبھالتے ہی جو پہلی آواز اس کی سماعتوں سے…