کفارہ (منتخب افسانہ)
گاڑی نمبر ۱ پلیٹ فارم پر رکی اور تیسرے درجے کے ایک بھرے ہوئے ڈبے سے ایک گھبرائی ہوئی آواز نے پکارا، ’’کوئی قلی۔ کوئی قلی!‘‘ تب لوگوں کو تو چڑھنے اترنے کی پڑی تھی۔ اترنے والوں کی نسبت چڑھنے والے اتاولے تھے اور چڑھنے والوں کی نسبت بےصبر۔ پھر قلی کس طرح اس…
سر سلامت، جوتے بہت۔۔
پچیس چھبیس سال کے وہ ٹرکش نوجوان صاحب فرش پہ بیٹھے اپنے جوتے پالش کر رہے تھے اور میں ایک دم خوشگوار حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یار آپ اچھے خاصے ترقی یافتہ ملک کے تقریباً جین زی بچے ہیں، نوجوانوں والی ہی آپ کی ڈریسنگ ہے لیکن صبح صبح…