سر سلامت، جوتے بہت۔۔
پچیس چھبیس سال کے وہ ٹرکش نوجوان صاحب فرش پہ بیٹھے اپنے جوتے پالش کر رہے تھے اور میں ایک دم خوشگوار حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یار آپ اچھے خاصے ترقی یافتہ ملک کے تقریباً جین زی بچے ہیں، نوجوانوں والی ہی آپ کی ڈریسنگ ہے لیکن صبح صبح…
ستاروں اور جگنوؤں کی بارات
سورج شاید کمبل اوڑھے آکاش کے پلنگ پہ کہیں دبک کر سویا ہوتا تھا۔ دھوپ کی ایک بھی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ جاڑے کے موسم میں، ہماری بستی میں یخ بستہ اور دھند آلود صبح پھوٹتی تھی۔ نیم کی ٹنڈ منڈ شاخوں سے شبنم کی بوندیں برس رہی ہوتیں۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔ ہم آنکھیں…