درختوں کا دیوانہ، نثار بادینی
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم اور نکلیں گے عشاق کے قافلے جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم مختصر کر چلے درد کے فاصلے کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔ فیض احمد فیض کی یہ سطور آج…