پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…
ایک بُدھو (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس، جولیا ویسلوینا کو اپنی اسٹڈی میں بلایا۔ ”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینا!“ میں نے کہا، ”آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں۔۔ اگرچہ تمہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفاً کوئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ…
کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
یہ مرد (افسانہ)
کسی قسم کے احساس کے بغیر گوبند نے چپ چاپ لکشمی کی چارپائی کے اردگرد پردے لگا دئیے، پردے۔۔۔ جو لکڑی کے فریم میں سفید کپڑا لگا کر بنائے گئے تھے اور حسبِ خواہش کھولے یا بند کیے جا سکتے تھے۔ تب مس سلطانہ اور بکیٹی تیز تیز چلتی ہوئی آئیں اور ان کے بعد…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…
’مظلوم لوگ ہمیشہ کے لیے مظلوم نہیں رہ سکتے‘
’مظلوم لوگ ہمیشہ کے لیے مظلوم نہیں رہ سکتے۔ آزادی کی تڑپ بالآخر خود کو ظاہر کرتی ہے‘— مارٹن لوتھر کنگ جونیئر دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل قرار دی جانے والی غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں نے گزشتہ نصف دہائی بدترین جبر میں گزارنے کے بعد گزشتہ ہفتے ایک…
چی گویرا کی کہانی، جو آج بھی ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے!
14 جون سنہ 1928 کو ارجنٹینا کے علاقے روساریو کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والا ارنسٹو گویرا ڈی لا سرنا کو دنیا چی گویرا کے نام سے جانتی ہے۔ اس نے بیونس آئرس یونیوسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی زمانہ طالب علمی میں اسے جنوبی اور وسطی امریکہ میں بہت…
آئیے! جبر کی کہانی سنتے ہیں۔
پراگ میں پیتل سے بنے مجسمے ایک ترتیب میں رکھے گئے ہیں۔ نڈھال، سر تسلیمِ خم ، پریشان حال اور شکستہ بدن ، پہلا مسجمہ صحیح سالم مگر آگے یہ ہی شخص کٹتے کٹتے معدوم ہو جاتا ہے آخر میں اس شخص کا صرف پاؤں رہ جاتا ہے ان مجسموں کے خالق اوبرام زوک ہیں،…