تاریخ نہ سہی، کیلنڈر ہی سیدھا کر لو
1950 کی دہائی کے پاکستان میں 23 گزیٹڈ چھٹیاں (ہالیڈیز) ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے دو سیکولر چھٹیاں یکم جنوری، بینک ہالیڈے تھیں۔ دس مسلم تہواروں (شبِ معراج، شبِ برات، جمعۃ الوداع، عیدالفطر، حج، عید الضحٰی، یکم محرم، عاشورہ، آخری چہارشنبہ، عیدِ میلاد النبی)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط34)
اب ہم خوشحال خاں خٹک کی سرزمین پر ہیں۔۔ گل گنٹردہ دتورے، کہ کابک دے کہ کشمیر۔ میٹرنی دی چہ یادیگی، پہ سمندر وہم پہ دلیر۔۔ (خوشحال خاں خٹک) (فتح تلوار کی مرہونِ منت ہے چاہے کابل ہو یا کشمیر۔ فاتح اور بہادری کو لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اپنے گیتوں میں بھی اور…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط32)
”چلاسی عورت بہت محنتی ہے، سارا دن کام کرتی ہے۔ مجال ہے کسی کے جسم پر ذرا سا بھی موٹاپا نظر آئے۔پیدل سفر، دن بھر کی مشقت، سادہ غذا سبھی موٹاپے کے دشمن ہیں۔ یہاں کی عورت صبح سویرے اٹھتی ہے۔ دودھ دوھنے سے لے کر لسی بنانے اور مکھن نکالنے تک، ناشتے سے رات…
کیا پاکستان کے بانی اورنگ زیب عالمگیر ہیں؟
بائیں بازو کے پاکستانی اور بھارتی دانشور عموماً یہ تاثر رکھتے ہیں کہ جن وجوہات کی بنیاد پر تقسیم ہوئی، ان کی بنیاد اسی دن رکھی گئی تھی جب ایک روشن خیال ولی عہد شہزادہ دارا شکوہ کو ان کے متعصب بھائی اورنگ زیب نے قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا حقائق اس…