آٹا مہنگا، خودی سستی
بچپن سے ایک جھوٹ اتنی مرتبہ سنا ہے کہ اس پر یقین سا آ چلا تھا۔ وہ یہ کہ پاکستان میں رات کو کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ زمین زرخیز ہے لوگ ایک دوسرے کے اتنا قریب رہتے ہیں کہ جو دال دلیہ ہو وہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ایک بزرگ نے ایک دفعہ یہ…
خواب جو کُچلے گئے۔۔۔سرمایہ اگلتی فیکٹریاں جن کے سائے میں بھوک پلتی ہے
جب پتا چلا کہ فیکٹری میں زکوٰۃ بٹے گی تو اس کی آنکھوں میں کچلا جانے والا خواب پھر جی اٹھا ’بچوں کے عید کے کپڑے بن جائیں گے۔۔‘ اس خواب کے ساتھ کتنی ہی خواہشیں بھی جاگ اٹھیں ’کپڑے دیکھ کر کیسے جھوم اٹھیں گے، لپٹ جائیں گے مجھ سے۔۔۔‘ وہ سوچ کر مسکرا…
شہدائے آٹا
زہرہ مائی اور کندن مائی دونوں کزن تھیں اور بستی عارف میں رہتی تھیں، اب یہ بستی عارف کہاں ہے؟ یہ جتوئی کے مضافات میں ہے اور اس بستی میں صرف غریب رہتے ہیں۔۔ کتنے غریب؟ اتنے غریب کہ یہ صرف آٹے کے ایک تھیلے کے لیے جان دے سکتے ہیں اور کندن مائی اور…
پاکستان میں دو قطاروں کی کہانی: اشرافیہ اور غرباء کا بڑھتا فرق اور سکڑتی مڈل کلاس
پاکستان میں ان دنوں دو قطاریں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ایک طرف لاہور میں گذشتہ ہفتے کھُلنے والی کینیڈین کافی شاپ ٹِم ہارٹنز کے باہر لگی لائن جس میں لوگ ہاتھوں میں پیسے تھامے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اس برانڈ کے بارے میں سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہاں…