کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
ایک خاموش خطرہ: ٹی بیگ جسم میں مائیکرو پلاسٹک کی منتقلی کی بڑی وجہ ہے!
چائے محض ایک مشروب نہیں، بلکہ بہت سی ثقافتوں میں روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ پاکستان میں چائے صرف ایک گرم مشروب نہیں، بلکہ مہمان نوازی، گپ شپ اور آرام کا ایک ذریعہ ہے۔ بازاروں میں گلاسوں میں لبریز چائے، گھروں میں چائے کے کپ کے گرد بیٹھے خاندان، اور دفاتر میں…
ایک لٹر پانی کی بوتل میں پلاسٹک کے ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ذرات: ہوش اڑا دینے والی تحقیق
حال ہی میں ایجاد کی گئی تیکنیک کا استعمال کرتے ہوئے، سائنسدانوں نے پانی کے مقبول برانڈز میں فی لیٹر پانی میں، پلاسٹک کےاوسطاً دو لاکھ چالیس ہزار قابلِ شناخت ٹکڑوں کی گنتی کی ہے، جو کہ پہلے تخمینوں سے 10-100 گنا زیادہ ہے۔ اس تحقیق نے صحت کے ممکنہ خدشات…
کینیڈین ریستورانوں میں پلاسٹک کی کٹلری پر پابندی: سائنس، قانون اور حکومت!
کینیڈا کے ریستورانوں کو صارفین کو پلاسٹک کے بیگ، کھانے کے ڈبے یا کٹلری پیش کرنے کی اجازت نہیں ہے، تاہم عدالت نے فیصلہ دیا ہے اس طرح کی پابندیاں غیر آئینی ہیں فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک مرتبہ استعمال کیے جانے والے پلاسٹک پر پابندی کا…
کیا ماحول سے پلاسٹک کے فضلے کی صفائی محض سرمایہ دار کمپنیوں کا ایک حربہ ہے؟
اگرچہ اس وقت ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سرگرم کچھ تنظیمیں پلاسٹک کے فضلے کے وسیع علاقوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود کوڑے میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا یہ محض سرمایہ دار کمپنیوں کا حربہ ہے؟ کیونکہ ایک…
اب بادل ’پلاسٹک کی بارش‘ برسا رہے ہیں: تحقیق
جاپان میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق اب بادلوں میں خوردبین سے دکھائی دینے والے پلاسٹک کے ذرات پائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ’پلاسٹک کی بارش‘ ہو رہی ہے خیال کیا جارہا ہے کہ پلاسٹک کے یہ چھوٹے ذرّات آب و ہوا کو متاثر کر رہے ہیں، جن کو سائنسدان ابھی…
پلاسٹک کا بے دریغ استعمال روک کر مہذب شہری بننا ہوگا
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی اور جب بھی پلاسٹک بنا ہے چاہے وہ کتنا ہی عرصے پہلا کیوں نہ بنا ہو وہ اب بھی ختم نہیں ہوا بلکہ اسی حالت میں موجود ہے پلاسٹک جس میں ہم روزمرہ کی چیزیں خرید کر لاتے ہیں اور بغیر پرواہ کیے پھینک…
پہلے شاپر بناؤ پھر اس سے دم گھونٹ لو
یہ تو آپ جانتے ہیں کہ پلاسٹک سنتھیٹک پولیمر سے بنتا ہے اور پولیمر پٹرولیم اور گیس کی ذیلی پروڈکٹ ہے۔ نہ معدنی ایندھن ہوتا نہ پلاسٹک ہوتا دونوں کی داستان ایک صدی سے اوپر کی نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دوسری عالمی جنگ کے پھیلاؤ اور تباہ کاری میں…