خواب جو کُچلے گئے۔۔۔سرمایہ اگلتی فیکٹریاں جن کے سائے میں بھوک پلتی ہے
جب پتا چلا کہ فیکٹری میں زکوٰۃ بٹے گی تو اس کی آنکھوں میں کچلا جانے والا خواب پھر جی اٹھا ’بچوں کے عید کے کپڑے بن جائیں گے۔۔‘ اس خواب کے ساتھ کتنی ہی خواہشیں بھی جاگ اٹھیں ’کپڑے دیکھ کر کیسے جھوم اٹھیں گے، لپٹ جائیں گے مجھ سے۔۔۔‘ وہ سوچ کر مسکرا…