تپتی دھوپ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
بچہ: ”اماں۔۔ اماں! کل صبح سے پہلے مجھے جگا دینا۔“ ”تم پھر نہیں جاگو گے۔“ ”نا جاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔“ پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سے بھرپور چمک دوڑ گئی۔ ”اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے…
کفارہ (منتخب افسانہ)
گاڑی نمبر ۱ پلیٹ فارم پر رکی اور تیسرے درجے کے ایک بھرے ہوئے ڈبے سے ایک گھبرائی ہوئی آواز نے پکارا، ’’کوئی قلی۔ کوئی قلی!‘‘ تب لوگوں کو تو چڑھنے اترنے کی پڑی تھی۔ اترنے والوں کی نسبت چڑھنے والے اتاولے تھے اور چڑھنے والوں کی نسبت بےصبر۔ پھر قلی کس طرح اس…