ماں بولی (حصہ چہارم)
سقوطِ ڈھاکا کے بعد یوں محسوس ہوا تھا کہ شاید ریاست اپنی غلطیوں سے سیکھے گی، قومیتوں اور زبانوں کو ان کا وہ حق دے گی جس سے وفاق مضبوط ہوتا ہے، مگر جوں جوں ہم تاریخ کے ابواب پلٹتے ہیں، اندازہ ہوتا ہے کہ واقعات بدل گئے، نقشہ بدل گیا، لیکن ریاستی ذہنیت میں…
ماں بولی (حصہ دوم)
میں مادری زبانوں کی حیثیت اور اہمیت پر لکھ رہا ہوں۔ بات اپنی ماں بولی کے درد کی ہے، مگر کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسے مکمل، تحقیقی اور وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ زبان صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ اپنے پیچھے کوئی پورا معاشرتی ڈھانچہ،…