اراولی مزاحمت، کارونجھر جدوجہد اور کھیرتھر پر مسلط خاموشی
جب کسی خطے میں پہاڑ خطرے میں پڑ جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف قدرت نہیں، انسان بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ آج ہندوستان کے گجرات و راجستھان میں اراولی، سندھ کے تھر میں کارونجھر اور کراچی کے کنارے کھیرتھر اسی انجام کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ…
کھیرتھر ماحولیاتی انصاف چاہتا ہے!
کھیرتھر نیشنل پارک (KNP) سندھ کے اضلاع کراچی، دادو اور جامشورو کے بعض حصوں پر محیط ایک محفوظ قدرتی خطہ ہے۔ اس کے جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کو ایک جامع قانونی فریم ورک کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، ان تحفظات کے باوجود غیر قانونی کان کنی، تعمیراتی سرگرمیوں…
ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی
ملیر کی زمین پر سندھ حکومت کی جانب سے جو منصوبہ “ایجوکیشن سٹی” کے نام سے شروع کیا گیا ہے وہ ملیر کی زمینوں پر قبضے کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ منصوبہ ریاستی و حکومتی اداروں اور کارپوریٹ مفادات کو ترقی اور علم جیسے خوبصورت الفاظ کے پردے میں ملیر کی زمینوں،…
تہذیبوں کا تصادم : فطرت اور کنکریٹ کی جنگ
تصویر کا ایک منظر ہزاروں سال پرانی زرعی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرسبز کھیتوں میں گائے کھڑی ہے، اور دوسرا منظر نام نہاد شہری ترقی کی ہے، جس کی نمائندگی مطلب قبضہ بھیڑیا ٹاؤن کی گرینڈ مسجد کررہے ہے۔ یہ دونوں مناظر ایک فریم میں ہیں، مگر ان کے درمیان…
کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ
کراچی کا سب سے بڑا ضلع ملیر صدیوں سے مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کا مسکن رہا ہے، جو ایک مشترکہ زرعی معاشرے کے طور پر ماحول پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ترقیاتی منصوبے زمین، پانی اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔…
ملیر کی سیاسی جدوجہد: مسائل، حکمت عملی اور مستقبل کی راہ
پاکستان میں اقتدار کی سیاست کرنے والی بیشتر جماعتیں عوامی طاقت کے بجائے بیرونی امداد اور ’مقتدر‘ حلقوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک عوامی حمایت محض منشور کی سیاہی تک محدود ہوتی ہے۔ سندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی اب ایک مخصوص طرزِ سیاست میں جکڑی جا چکی…