افیمیو! اھلاً و سھلاً مرحبا، باروک ھابا، ویلکم، سواگتم!
ایک دور تھا، جب فلسفۂ عملیت، عمل کی اہمیت کو لے کر اس حد تک اندھا یا تنگ نظر ہو گیا، کہ الفاظ کی اہمیت سے یکسر اور قطعی انکار کر کے محض تجربیت کی مالا جھپنے لگا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ عملیت کا فلسفہ خود اپنی تشریح کے لیے ہمیشہ الفاظ کا محتاج…