خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…
امیر و غریب الگ الگ دنیاؤں کے باسی بنتے جا رہے ہیں
کچھ برسوں پہلے پاکستانی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے کچھ ارکان نے جب ایک بیوروکریٹ سے یہ دریافت کیا کہ اسلام آباد ہائی وے پر بوڑھے یا معذور افراد کے لیے کوئی پُل کیوں نہیں بنایا گیا، تو بیوروکریٹ نے جواب دیا کہ سڑک بناتے وقت اس بات کا خیال ہی نہیں آیا۔ یہ…