سندھو ڈیلٹا: جہاں دریا ختم ہوتا ہے، وہاں زندگی بھی ختم ہو رہی ہے۔۔
سندھ کے ساحلی ضلع سجاول میں واقع کھارو چھان کے گاؤں عبداللہ میر بحر میں ایک غیر معمولی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ زمین پر نمک کی تہہ، سمندر کے بڑھتے قدموں کی آہٹ اور خالی گھروں میں بھٹکتے آوارہ کتے، جیسے تہذیب کی قبر پر پہرہ دے رہے ہوں۔ حبیب ﷲ کھٹی، جن کی عمر…
سندھ کا مٹیالا پانی اور اس پر جمی میلی آنکھیں۔۔
اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ دریائے سندھ، جو پہاڑوں کے دل سے نکلتا ہے اور میدانوں کے سینے پر بہتا ہوا سمندر کی آغوش میں سما جاتا ہے، زندگی کا ایک حسین استعارہ ہے۔ یہ دریا نہ صرف زمین کو سیراب کرتا ہے…
ہو جمالو کی کہانی سے جُڑا دریائے سندھ پر قائم 134 سالہ قدیم پل اب تفریحی مقام بنے گا۔۔
سکھر میں دریائے سندھ پر 134 سالہ قدیم فولادی لینس ڈاؤن برج، جسے سندھ ہائی کورٹ نے قومی ورثہ قرار دے رکھا ہے، حال ہی میں اس پل کی مرمت اور اسے تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ برطانوی دور میں سندھ کے جُڑواں شہروں سکھر اور روہڑی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط63)
جیرو سائیں پچاس پچپن برس کا باریش ہنس مکھ سندھی ہے، جو اپنے بچپن سے ہی سیاحوں اور زائرین کو سادھ بیلو لا لے جا رہا ہے۔ پہلے کشتی پر باپ کا مدد گار تھا، اب خود دیسی موٹر بوٹ چلاتا ہے اور اس کے بیٹے اب اس کے مدد گار ہیں۔ اس کے منہ…
کوٹری: انڈس فلوٹیلا، سندھ ریلوے اور برٹن کے دو سفر (پہلا حصہ)
گزرگاہیں کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہوں، چاہے اُن پر سے صدیوں کے شب و روز ایک ایک کرکے گزر جائیں، کتنے مٹی کے طوفان آئیں، بادل گرجیں اور آسمان سے بہتا پانی سب جل تھل کردے مگر گزرگاہوں پر سے گزرے قافلوں کے نشان کبھی فنا نہیں ہوتے۔ وہ سینہ بہ سینہ چلتی کتھاؤں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط27)
عالم گڑھ کا بیلی سسپنشن برج ایک سو بتیس (132) میٹر لمبا ہے۔ اسے ایک مقامی ٹھیکے دار ”سید عالم“ نے تعمیر کیا اور انہی کا نام اس کے نام کی نسبت بن گیا ہے۔ میں پانچ سو (500) میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ دریائے گلگت پر اب جدید پل بنا…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 3)
میں ہزاروں برس کی کہانیوں کا عکس بھی ہوں۔ یہی عکس تو آپ کو دکھانے ہیں۔ وہی فسانے تو آپ کو سنانے ہیں۔ گویا ایک طویل محفل سجانی ہے۔ میں اگرچہ میزبان ہوں، داستان گو بھی ہوں، کہانی کار بھی ہوں۔ مگر یہ داستان کہیں میری اور کہیں میرے یار شہزاد احمد حمید کی…